پٹنہ :(ایجنسی)
مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ ملک کا ایک تاریخی مدرسہ ہے، جو پورے طور پر حکومت بہار کی تحویل میں ہے، اس کو سوسال پورے ہوگئے، مگر موجودہ وقت میں یہ حکومت کی بےتوجہی کی وجہ سے دم توڑ رہا ہے اوراساتذہ کی کمی کی وجہ سےبند ہونے کے کگار پر ہے۔ معیاری تعلیم اور مسلم اقلیت کی ترقی کادعویٰ کرنے والی حکومت میں اس ادارہ کی یہ حالت قابل افسوس ہے اور حکومت بہار کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے بانی الحاج سید نورالہدیٰ نےاپنے والد سید شمس الہدیٰ کے نام پر 1912ء میں قائم کیا، پھر 1919ء میں حکومت بہار کی تحویل میں دے دیا، اس کی وجہ سے بہار مدرسہ بورڈ، ادارہ تحقیقات عربی وفارسی پٹنہ، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اور مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا، آج یہ تاریخی ادارہ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے بند ہونے جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ میں دوسیکشن ہیں، ایک جونیئر سیکشن ،جس میں درجہ اول سے درجہ فوقانیہ یعنی میٹرک تک کی تعلیم ہوتی ہے، اسی میں شعبۂ حفظ بھی ہے، اس میں اساتذہ کے 12؍ عہدے منظور ہیں، جبکہ دوسرا سیکشن سینئر سیکشن کہلاتا ہے، اس میں مولوی سے فاضل تک کی تعلیم ہوتی ہے۔اس میں پرنسپل سمیت 9؍عہدے منظور ہیں۔ پرنسپل کا عہدہ بہار ایجوکیشن سروس کلاس 1اور دیگراساتذہ کے عہدے کلاس 2کے ہوتے ہیں۔اس طرح دونوں سیکشن ملاکر پرنسپل سمیت 21؍عہدے منظور ہیں۔ موجودہ وقت میں جونیئر سیکشن میں صرف ایک استاد کام کررہے ہیں، بقیہ عہدے اساتذہ کی وفات یا سبکدوشی کی وجہ سے خالی ہیں۔ایک استاد جو کام کررہے ہیں، وہ بھی جنوی 2022میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔
اساتذہ کے نہ رہنے کی وجہ سے شعبۂ جونیئر میں داخلہ بھی بند ہے، جبکہ شعبۂ سینئر میں پرنسپل سمیت 9عہدے منظور ہیں،ان میں سے پرنسپل سمیت کل 3اساتذہ کام کررہے ہیں۔6عہدے وفات یا سبکدوشی کی وجہ سے خالی ہیں۔ اس طرح درجہ اول سے فاضل یعنی ایم اے تک کے ادارے میں صرف 4اساتذہ کام کررہے ہیں،اس کی وجہ سے حکومت بہار کے معیاری تعلیم کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہورہا ہے۔حکومت بہار خاص طور سے وزیراعلیٰ سے اپیل ہے کہ تاریخی مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنایا جائے۔ گورنمنٹ باڈی کے ممبران سے بھی درخواست ہے کہ مدرسہ میں اساتذہ کی کمی کے معاملے کو حکومت تک پہنچائیں، تاکہ مدرسہ میںاساتذہ کی تقرری ہوسکے۔









