لکھنؤ:( ایجنسی )
لکھنؤ کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کے خلاف ان کی کتاب ’سن رائز اوور ایودھیا: نیشن ہڈ ان اوور ٹائمس‘ (SUNRRISE OVER AYODHYA: NATION HOOD IN OUR TIMES) میں ’سناتن‘ ہندو مذہب کا بوکو حرام اور آئی ایس آئی ایس دہشت گرد تنظیموں سے موازنہ کرنے پر ایف آئی آر درج کی جائے۔
ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شانتنو تیاگی کی عدالت سے یہ حکم جاری ہوا۔ عدالت نے بخشی کا تالاب پولیس انچارج کو ہدایت کی کہ وہ قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائیں اور معاملے کی مناسب تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ مجسٹریٹ نے کہا، ’’ایف آئی آر کی کاپی اگلے تین دنوں کے اندر عدالت کو بھیجی جائے گی۔‘‘

یہ حکم ایک درخواست پر آیا ہے جو ضابطہ فوجداری کے سیکشن 156(3) کے تحت ایک شوبھانگی تیواری کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ اپنے حکم میں مجسٹریٹ نے کہا، ’درخواست کے غور سے اور اس کی حمایت میں اٹھائے گئے دلائل سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ سلمان خورشید کے خلاف قابلِ سماعت جرائم کا معاملہ بنتا ہے۔‘
درخواست گزار نے الزام لگایا کہ کتاب کے کچھ حصے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ کانگریس لیڈر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولس اسٹیشن میں درخواست دی گئی تھی، لیکن پولس نے کارروائی نہیں کی اس لیے عدالت میں عرضی داخل کی گئی۔ نومبر میں دہلی ہائی کورٹ نے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کی کتاب کی اشاعت، سرکولیشن اور فروخت کو روکنے کے لیے الگ الگ دو درخواستوں کو خارج کر دیا تھا جس میں ہندوتوا کے بارے میں اس کے مبینہ ریمارکس کو داعش اور بوکو حرام جیسے بنیاد پرست جہادی گروپوں سے تشبیہ دیئے گئے ہیں۔
جج نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ کیا ہو سکتا ہے۔ اگر لوگ’اتنا حساس محسوس کر رہے تھے‘ تو کریں۔ سب کو بتاؤ کہ کتاب بری طرح سے لکھی گئی ہے۔ ان سے کہیں کہ وہ کچھ بہتر پڑھیں۔ اگر لوگ اتنے حساس ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کسی نے بھی انہیں پڑھنے کے لیے نہیں کہا‘‘










