نئی دہلی؍ کانپور:(ایجنسی)
ملک میں اومیکرون وائرس کے415کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ کیرالہ میں کووڈ-19 انفیکشن پر بنائی گئی ماہرین کی کمیٹی کے ڈاکٹر نے کہا کہ کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے بڑھتے انفیکشن کو روکا نہیں جا سکتاہے۔ اسی کمیٹی کے ڈاکٹر انیس نے کہا کہ ایک اسٹڈی کے مطابق جنوری میں کورونا کی تیسری لہر شروع ہو سکتی ہے اور اس لہر کی بڑی وجہ اومیکرون ویرینٹ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہمارے پاس اس بار شنگین طور سے بیمار مریضوں کی تعداد دوسری لہر جیسی نہیں ہوگی لیکن ہمیں پہلے سے ہی تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر انیس نے کہا کہ عالمی رجحان سے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے 2 سے 3 ہفتوں میں کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جائے گی اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ 2 ماہ کے اندر متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کورونا کی تیسری لہر کو روکنے کے لیے ایک ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں مل سکتاہے۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ ہمیں ہندوستان میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا۔ لوگوں کو کورونا پروٹوکول پر عمل کرنا ہوگا اور اس وقت ہمارے پاس یہی واحد طریقہ ہے جس سے کورونا کے کیس کو روکاجاسکتا ہے۔
فروری کے پہلے میں عروج پر ہوگا کورونا کی تیسری لہر: آئی آئی ٹی کانپور
بھارت میں کووڈ 19-کی تیسری لہر آئندہ سال تین فروری تک پک پر ہوسکتی ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی)کانپور کے محققین نےاپنے ریسرچ میںاہ دعویٰ کیا ہے ۔
تاہم، یہ پیشن گوئی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہندوستان میں کورونا وائرس کے اومیکرون ویرنٹ سے متاثر ہونے والے بہت سے ممالک میں کیسز میں اضافے کا رجحان دیکھنے کوملےگا۔
گزشتہ 21 دسمبر کومیڈ آرایکس آئی وی پر شائع ہونےوالے مطالعہ کا ابھی جائزہ نہیں لیا گیاہے۔ اس میں تیسری لہر کا پیشن گوئی کرنے کے لیے گاوسی میکچر ماڈل کا استعمال کیاگیا ہے۔
اپنے مطالعے میںمحققین نے امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور روس جیسے ممالک کے ڈیٹا کا استعمال کیا، جو پہلے ہی وبائی مرض کی تیسری لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔
سائنس دانوں نے ہندوستان میں تیسری لہر کے اثرات اور ٹائم لائن کا اندازہ لگانے کے لیے ان ممالک میں کیسز پر روزانہ ڈیٹا کا استعمال کیا۔ مطالعہ میں ہندوستان میں پہلی اور دوسری لہر کے اعداد و شمار کا بھی استعمال کیا۔
محققین نے لکھا :’ معاملے 15 دسمبر کے قریب بڑھنےشروع ہوئےاورتیسری لہر کا پک 3 فروری بروز جمعرات کو ہوگا ۔
واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کوبھارت میں 24 گھنٹے کے دورانیہ میں کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے 122 معاملےکا پتہ چلاجو اب تک ایک دن میں اس ویرینٹ کے سب سے زیادہ معاملےہیں۔ ملک میں اومیکرون کےاب تک 358 معاملے سامنے آئےہیں۔










