نئی دہلی:(ایجنسی)
ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اس کی نئی شکل ’اومیکرون‘ کے درمیان الیکشن کمیشن نے اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، بڑی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ ان ریلیوں میں بھیڑ بھی جمع ہو رہی ہے۔ ایسے میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان تمام مسائل پر سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی سے کچھ سوالات کئےگئے۔
کورونا وبا کی تیسری لہر کے خدشے کے درمیان الیکشن کمیشن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کرانے کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے۔ آپ کے خیال میں یہ کتنا منطقی ہے؟
وبائی امراض کے دوران کئی ممالک میں انتخابات ہوئے ہیں۔ بہار سے لے کر بنگال تک اور کیرالہ سے تامل ناڈو تک کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوچکے ہیں۔ اگر انتخابات کووڈ-19 سے متعلق رہنما خطوط کے مطابق کرائے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ریلیوںکا انعقاد خطرناک ہے۔ یہ بند ہو نی چاہئے۔
دن میں لیڈر بڑی بڑی ریلیاں کررہےہیں اوررات میں حکومتیں کرفیو لگا رہی ہے، ایسے میں انفیکشن کاپھیلاؤ کیسے روکے گا؟
صحیح بات ہے ، دن میں ریلی اور رات میں کرفیو کا کوئی مطلب نہیںہوتا ہے۔ اس سے تو کوئی حل نکلنے والا نہیں ہے۔ اس سے انفیکشن کچھ دیرکے لیے رکنے والا ہے ۔
الیکشن کمیشن کو ایسا کیا کرنا چاہئے کہ الیکشن بھی مکمل ہو جائے اور انفیکشن بھی کم سے کم پھیلے؟
الیکشن کمیشن تو بعد میں پکچر میںآئے گا، جب انتخابات کے اعلانات ہوجائیں گے اور ضابطہ اخلاق نافذ ہوگا۔ اس سے پہلے تو سرکار کو قدم اٹھانے چاہئے۔ ابھی تو سرکار کےہی قوانین لاگو ہیں۔ رات میں کرفیو تو سرکار نے ہی لگایا ہے۔ سرکار کو چاہئے وہ ان ریلیوں کے انعقاد پر روک لگائے۔ انتخابات کےاعلانات کرنے کےبعد الیکشن کمیشن کو پہلا کام ان ریلیوں پر پابندی لگانےکاکرنا چاہئے۔
الیکشن کمیشن کورونا پروٹوکول طے کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ انتخابات میں بھی یہ دیکھا گیا کہ اس کی پاسداری کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کے ساتھ گیند ایک دوسرے کے پالے میں ڈالنے کی کوشش ہوئی ۔ آپ کیا کہیںگے؟
الیکشن کمیشن کا پروٹوکول بہت ہی اچھا ہے۔ اس کا نفاذ بخوبی ہونا چاہیے۔ اگر یہ نہیں ہوتا ہے تو کوتاہی ہے،لاپروائی ہے۔ ہر صورت میں تجویزکردہ پرو ٹوکول پر عمل کیا جانا چاہئے۔ کمیشن کو ہر صورت حال میں یہ یقینی بنانا ہوگا۔
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے دوران جب کیسز تیزی سے بڑھنے لگے تو یہ مطالبہ کیا گیا کہ انتخابی مہم کا دورانیہ کم کیا جائے اور پولنگ ایک یا دو مرحلوں میں مکمل کی جائے۔ آپ کی رائے میں کیا ہونا چاہیے؟
الیکشن کمیشن کو اس کا جائزہ لینا چاہیے اور حکومت اس میں تعاون کرے۔ سیکورٹی سے متعلق تمام انتظامات ایک ساتھ کیے جاسکتے ہیں۔ اگر حکومت اس کے لیے انتظامات کرے تو کم از کم ایک یا دو مرحلوں میں ووٹنگ مکمل ہو سکتی ہے۔










