نئی دہلی:(ایجنسی)
دہلی میں کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے لوگوں سے کم از کم باہر جانے اور اپنی صحت کے حوالے سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا ہے کہ ’’لوگوں کو سنگین صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ویک اینڈ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہنگامی خدمات کے لیے ڈی ایم آفس سے کرفیو پاس جاری کیے جا سکتے ہیں۔ پھر بھی احتیاط کرنے کی کوشش کریں تاکہ وائرس کا انفیکشن نہ ہو۔
بھارت میں اب تک کورونا وائرس کی ایک نئی شکل ’اومیکرون‘ کے 2,135 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 828 لوگ انفیکشن سے صحت یاب ہو چکے ہیں یا دوسری جگہوں پر چلے گئے ہیں۔ یہ کیس 24 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوںمیں رپورٹ ہوئے ہیں۔ مرکزی وزارت صحت نے بدھ کو کہا کہ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 653 کیسز ہیں، اس کے بعد دہلی میں 464، کیرالہ میں 185، راجستھان میں 174، گجرات 154 اور تمل ناڈو میں 121 ہیں۔وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان میں ایک دن میں کووڈ-19 کے 58,097 نئے کیسز سامنے آنے کے بعدملک میں متاثرین کی تعداد بڑھ کر 3,50,18,358 ہو گئی ہے۔ تقریباً 199 دنوں کے بعد روزانہ اتنے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ بس اسٹاپ اور میٹرو اسٹیشن انفیکشن کے تیزی سے پھیلاؤ کے ہاٹ سپاٹ بن سکتے ہیں کیونکہ وہاں بیٹھنے کی گنجائش نصف ہونے کی وجہ سے لمبی قطاریں تھیں۔ اس لیے بسیں اور میٹرو کو پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو ماسک کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سسودیا نے کہا کہ دہلی میں کورونا وائرس انفیکشن کے 11 ہزار مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 350 مریض اسپتال میں داخل ہیں۔ ان میں سے 124 مریضوں کو آکسیجن سپورٹ دی گئی جب کہ کم از کم سات مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔
دوسری جانب وزیر صحت ستیندر جین نے کہا کہ اب تک رینڈم چیکنگ ہو رہی تھی، اب تو اسپتال کے سیمپل جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنا بھی پھیل رہا ہے، وہ اومیکرون ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فل ویک اینڈ کرفیو نافذ ہے۔ اس دوران ضروری خدمات جاری رہیں گی۔











