نئی دہلی :(ایجنسی)
’بلی بائی‘ ایپ بنانے والے کو گرفتار کرنے کے بعد اب دہلی پولیس نے چھ ماہ قبل اسی طرح کی ایپ ’سلی ڈیلز‘ کیس میں بھی کارروائی کی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے میں گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ دہلی پولیس کے انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز(آئی ایف ایس او) نے مدھیہ پردیش کے اندور سے سلی ڈیل کیس کے اہم ملزم اومکاریشور ٹھاکر کو گرفتار کیا ہے۔
’ سلی ڈیلز‘ ایپ گزشتہ سال لانچ کیا گیا تھا اور اس ایپ پر’ نیلامی‘ کےلیے بغیر اجازت مسلم خواتین کی تصاویر استعمال کی گئی تھیں۔ ان تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی اور ان خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ ’سلی ڈیلز‘ کی طرح، حال ہی میں لانچ کی گئی ’بلی بائی‘ ایپ نے مسلم خواتین کو نشانہ بنایا۔ ہوسٹنگ اوپن سورس پلیٹ فارم ’گٹ ہب‘ دونوں ایپس کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ممبئی پولیس نے حال ہی میں’ بلی بائی ‘کیس میں کم از کم تین لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد دہلی پولیس کافی دباؤ میں تھی۔ دہلی پولس پر سوال اٹھ رہے تھے کہ چھ ماہ پہلے کے ’سلی ڈیلز‘ کے معاملے میں بھی اس نے کارروائی کیوں نہیں کی۔ اس دوران دہلی پولیس نے کارروائی کی اور 6 جنوری کو دعویٰ کیا کہ بلی بائی کیس کے اہم سازشی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
کلیدی شاطر نیرج بشنوئی کو دہلی پولیس کے خصوصی سیل کی آئی ایف ایس او ٹیم نے آسام کے جورہاٹ علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گٹ ہب پر ایپ ’بلی بائی‘ کا اصل سازشی اور تخلیق کار بھی ہے اور وہ ایپ کا مرکزی ٹوئٹر اکاؤنٹ چلاتا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کو پتہ چلا ہے کہ ملزم نیرج بشنوئی ایک عادی ہیکر ہے جس نے ماضی میں کئی ویب سائٹس کو ہیک کیا ہے۔ وہ 15 سال کی عمر سے یہ کام کر رہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ٹھاکر نے گٹ ہب پر سلی ڈیل کا کوڈ تیار کیا اور ایپ کو ٹوئٹر پر شیئر کیا۔
پولیس نے ’بلّی بائی‘ ایپ کے خالق نیرج بشنوئی سے پوچھ گچھ کے دوران حاصل معلومات کی بنیاد پر ٹھاکر کی شناخت کرکے اسے حراست میں لیا تھا۔ بلی بائی ایپ کیس میں نیرج بشنوئی کے علاوہ تین دیگر ملزمین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ممبئی پولیس نے سب سے پہلے بلی بائی ایپ کیس میں بنگلور کے انجینئرنگ کے طالب علم وشال جھا کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اتراکھنڈ سے 12ویں کے 18 سالہ طالبہ شویتا سنگھ اور میانک راوت کو بھی گرفتار کر لیاگیا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ اس سال جولائی میں ‘’سلی فار سیل‘ کے نام سے ایک اوپن سورس ویب سائٹ بنائی گئی تھی، جس پر مسلم خواتین کے ٹوئٹر ہینڈل سے جانکاریاں اورتصاویر نکال کر ڈالی گئی تھیں اورانہیں عوامی طور پر نیلام کیا گیا تھا، جسے ’سلی ڈیل‘ کہا گیا۔ سلی فار سیل اورسلی ڈیل کےذریعہ مسلم خواتین صحافیوں،کارکنانوں ،فنکاروںاورمحققین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔











