اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندو راشٹر ایک دھوکہ ہے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہندو راشٹر ایک دھوکہ ہے
199
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ابھے کمار

ہندو راشٹر کے قیام کے لیے ایک بار پھر بھگوا طاقتیں سر گرم ہو گئی ہیں۔ میڈیا میں زیر بحث خبروں کے مطابق بھگوان عناصر نے بعض مقامات پر دھرم سنسد کا انعقاد کیا گیا ہے ، جس میں انہوں نے نہ صرف ہندو راشٹر بنانے کی بات دوہرائی ہے، بلکہ مسلمان اور دیگر محروم طبقات کے خلاف ہتھیار بند جنگ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نفرت کے ان سوداگروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے، سرکار، عدالت اور انسانی حقوق کے ادارہ ابھی تک خاموش ہیں۔ فرقہ پرست سے لے کرسیکولر پارٹیوں کی زیر حکومت ریاستوں میں دھرم سنسد منعقدگیا ہے،کیا آئین اور اقلیت مخالف یہ جلسہ انتظامیہ کی پست پناہی کے بغیر ممکن ہو سکتا تھا؟ یہ موقع بے محل نہیں ہے جب ہم ہندو راشٹر کے تصور کے بارے میں باتیں کریں۔ سچ پوچھئے تو ہندو راشٹر کے قیام سے ملک کا ہی نہیںبلکہ ہندوؤں کابڑا نقصان ہوگا۔ اقلیت اور دیگر محروم طبقات کی با ت چھوڑئیے کیونکہ ان کوتو پہلے سے ہی ہندو راشٹر کی سوچ میں دوئم درجہ کا شہری بنا دیا گیا ہے۔

گزشتہ سو سالوں میں بھگوا جماعت نے خوب پروپیگنڈہ پھیلایا ہے کہ ہندو راشٹر کے بن جانے سےبھارت کے تمام مسائل کا حل ہو جائے گا۔ مگر اس زہریلی سوچ نے اب تک ملک کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔ اسی فرقہ وارانہ سوچ نے مہاتما گاندھی کی جان لی۔ کہیں نہ کہیں ہندو مسلم تنازعات کے لیے یہی نفرت انگیز سوچ سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔دُکھ کی بات یہ ہےکہ بھگوا طاقتوں کےپروپیگنڈےکو خارج کرنے کے لیے سابقہ سیکولر جماعتوں نے سچے من سے کوشش نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج نفرت کا کھیل ہر طرف کھیلا جا رہا ہے۔ میڈیا سے لے کر ملک کی عام سوچ میں فرقہ پرستی کا زہرگھول دیا گیا ہے۔ چوک چوراہے، ٹرین اور بس میں فرقہ پرست یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان میں اسلامک نیشن کا قیام ہو سکتا ہے تو بھارت میں ہندو راشٹر کیوں نہیں بن سکتا ہے؟ہماری نئی نسل فرقہ وارانہ سوچ سے برباد ہو رہی ہے۔ اس لیے آج اس بات کی ضرورت شدت سےمحسوس کی جا رہی ہے کہ بھگوا طاقتوں کی فریب کاری کے خلاف ایک مہم چلائی جائے اور ان کے نفرت انگیز نظریات کا مدلل جواب دیا جائے۔

ہندو راشٹر کی حمایت میں یہ افواہ بھیلائی جاتی ہے کہ بھارت دیش بنیادی طور پر ہندو قوم پر مبنی ہے۔ ہندو ثقافت، ہندو قوم کو ملک سے جوڑا جاتا ہےہیں اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہندو لفظ کا مطلب ہندو دھرم کے ماننے والوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ جو کوئی بھی بھارت کو اپنی مادر وطن مانتا ہے اورجن کے مذہبی مقامات اسی ملک میں واقع ہیں وہ سب ہندو ہیں۔ اس طرح بھگوا عناصر اوپری من سے یہ کہتے ہیں کہ اگر مسلم اور عیسائی بھی بھارت کو اپنی مادر وطن دل سے قبول کر لیں اور بھارت کو اپنی پیتر بھومی تسلیم کر لیں تو وہ بھی ہندو قوم کے حصہ بن جائیں گے۔ اس طرح سے بھگوا عناصر کوشش کرتے ہیں کہ ہندو راشٹر کے تصور کو مذہب کی قید سے آزاد کر کےپیش کیا جائے اور اس میں غیر ہندوؤں کو شامل کیا جائے۔ تبھی تو چالاک بھگوا لیڈران بعض اوقات یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ان کی تنظیم کسی مسلم یا عیسائی کے خلاف نہیں ہے۔ جو کوئی بھی ہندو کلچر میں یقین رکھتا ہے وہ سب بھارتیہ ہیں۔ کئی بار بھگوا لیڈر ان یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پوجا پاٹھ ، رسم و رواج، عقیدہ ، دھرم ، مذہب کی آزادی میں ان کا یقین ہے اور وہ سچےسیکولر ہیں ، جبکہ ان کےحریف سیکولر جماعت اور کمیونسٹ مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتے ہیں اور ہندو مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اس طرح ان کو بھارتی کلچر اور ملک کا مخالف بتا کر پیش کیا جاتا ہے۔

حالانکہ بھگوا عناصر کے دکھانے اور کھانے کے دانت الگ الگ ہوتے ہیں۔ وہ یہ بات ضرور کہتے ہیں کہ وہ دھرم کی قید سے آزاد ہیں۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سچا سیکولر ایک ہندو ہی ہو سکتا ہے اور بھارت ہمیشہ سے ہی سیکولر رہا ہے کیونکہ یہاں کا قومی کلچر ہندو رہا ہے ۔در اصل وہ بات ضرور مذہب کی قید سے آزاد ہندو کلچر کی کرتے ہیں، مگر ان کے تصور کے ہندو کلچر کے ساری علامات اور تاریخ ایک مخصوص دھرم پر مبنی ہوتی ہے اور اس میں اقلیت مسلمان، عیسائی اور دیگر محروم طبقات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ اس ہندو کلچر میں عیسائی اور اسلام مذہب کو باہر کا مذہب بتلایا گیا ہے اور ان سے جڑی ہوئی تمام تاریخ اور سمبل کو ترک کر دیا گیا ہے۔ اگر بھارت میں ہندو مسلمان سکھ عیسائی سب بھائی بھائی ہیں تو پھر اسلام اور عسائیت بیرونی مذہب کیسے ہو گیا ؟

جہاں وہ عیسائیت اور اسلام کوہندو کلچر سے باہر کر دیتے ہیں وہیں بدھ، جین اور سکھ مت کو ہندو دھرم کے اندر ہڑپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر تاریخ یہ کہتی ہے کہجین ، بدھ، سکھ مذہب ذات پات اور دیگر غیر مساوی سماجی نظام کے خلاف بغاوت کی تھی۔ان دھرموں کو کو دبانے کے لیے تشدد کو بھی جائز قرار دیا گیا ۔بھگوا طاقتیں کبھی اس بات کا جواب نہیں دیتی کہ بدھ مت، جو بھارت میں پھیل گیا تھا ، خود ہی مٹ گیا یا پھر مٹا دیا گیا۔؟ وہیں دوسری طرف بھارت میں اسلام اور عیسائی مذاہب کے پیروکار ہزاروں سالوں سے زندگی گزر بسر کر رہے ہیں تو پھر اسلام اور عیسائیت کیسے بیرونی مذہب کہا سکتا ہے؟ کیا یہ بات تاریخی طور پرصحیح نہیں ہےکہ بھارت میں آریائی اور ویدک دور سے پہلے ہڑپہ تہذیب پایا جاتا تھا؟ قدیم بھارت میں ڈراوڈ تہذیب بھی تو تھی ، جو کہ آریائی اور ویدک کلچر سے الگ تھی ۔ آخر اسے بھگوا عناصر اپنے ہندو راشٹر میں کتنی جگہ دیتے ہیں؟

در اصل ہندو راشٹر کا تصور ایک خطرناک ارادہ ہے۔ اس خطرناک ارادہ کی حمایتی پوری ہندو قوم نہیں ہے۔ سچ پوچھئے تو مٹھی بھر اعلیٰ ذات کے ہندو اس تخریب کاری کےپیچھے گھڑے ہیں۔ وہ جان بوچھ کرایک ہندوؤں کے لیےعہد زریں کا خواب بیچتے ہیں، تاکہ سماج کے اصل مسائل کی طرف لوگوں کا دھیان نہ جا پائے۔ بھگوا عناصر دانستہ طور پر قدیم بھارت کو ملک کے لیے سب سے سنہرہ دور بتلاتے ہیں ، سچی بات یہ ہے کہ قدیم بھارت میں ذات پات اور عورتوں کے خلاف غیر مساوی نظام قائم تھا۔ قدیم بھارت کی تاریخ اچھوتوں اور بدھ مت کے ماننےوالوں کے خلاف ظلم اور زیادتی کی داستان بھی ہے۔ بھگوا طاقتیں بھارت کی ساری برائی کے لیے مسلمان ، عیسائی، انگریز اور کمیونسٹ کو قصور وار مانتے ہیں اور اعلیٰ ذات کی بالادستی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندو راشٹر بھار ت کے جمہور ی اور سیکولر آئین کے سراسر خلاف ہے۔ مگر افسوس کہ بھارت کے ارباب اقتدار وقتی فائد ہ کے لیے نفرت کے ان سوداگروں کو تحفظ دےکر ملک کو کمزور کر رہے ہیں۔ آج سے 80سال پہلے بابا صاحب امبیڈکر نے ہندو راشٹر کے خطرہ سے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہندو راشٹرکا تصور ایک حقیقت بن کر سامنے آجا تا ہے تو بلا شبہ یہ ملک کے لیے سب سے بڑی آفت اور تباہی ہوگی۔ کسی بھی قیمت پر ہندو راج کو قائم ہونے سے ہمیں روکنا ہوگا۔

(مضمون نگار جے این یو سے تاریخ میں پی ایچ ڈی ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN