اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اتر پردیش میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار کو ن؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
اتر پردیش میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار کو ن؟
147
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: کلیم الحفیظ۔نئی دہلی

تعلیم کی اہمیت ،افادیت اور ضرورت سے کون انکار کرسکتا ہے۔نہ اس بات سے کسی کو انکار ہے کہ تعلیم سماج میں ترقی اور خوشحالی لاتی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی قوم اور سماج کی پسماندگی میں جہالت ایک بڑا سبب ہے ۔جس قوم کو پیچھے کرنا ہو اسے تعلیم سے محروم کردیا جائے ،وہ قوم خود بخود پیچھے ہوجائے گی ۔تعلیم فرد میں شعور پیدا کرتی ہے ،اسی شعور سے کام لے کر انسان زندگی کے دوسرے شعبوں میں ترقی کے منصوبے بناتا ہے۔یوں تو ملکی سطح پر بھی مسلمانوں کی تعلیمی شرح کوئی قابل ذکر نہیں ہے ۔لیکن اتر پردیش کی حالت اس معاملے میں انتہائی ناگفتہ بہ ہے ۔بعض اعدادو شمار میں اترپردیش کے مسلمان بہار سے بھی پیچھے ہیں۔اس کا ذمہ دار کون ہے؟اب جب کہ اسمبلی الیکشن کا اعلان ہوچکا ہے اور ریاست کے مسلمانوں کو ایک بار پھر حق رائے دہی کے اختیار کا موقع ہے ۔انھیں اس کا جائزہ ضرور لینا چاہئے۔حدیث میںایک مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاسکتا،یعنی اسے کوئی ایک بار تو دھوکا دے سکتا ہے لیکن بار بار نہیں ،پھر اتر پردیش کے مسلمان کیسے مومن ہیں جو گزشتہ ستر سال سے دھوکا کھا رہے ہیں ۔

اتر پردیش ملک کی بڑی ریاست ہے ،یہاں سے 80ممبران پارلیمنٹ ہیں ،یہاںکی آبادی کا پانچواں حصہ مسلمان ہیں۔اس کے بعد بھی ان کی تعلیمی پسماندگی میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔حکومتیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں ،پارٹیاں اور چہرے بدلتے رہتے ہیں،مگر مسلمانوں کے ساتھ کسی کا سلوک نہیں بدلتا۔کیا سرکاروں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے عوام کی تعلیمی ترقی کے لیے منصوبہ بنائیں ،ایسا نہیں کہ ریاست میں تعلیم کے نام پر پیسہ خرچ نہیں ہوتا ،تقریباً 20ہزار کروڑ روپے سالانہ خرچ ہوتا ہے ،البتہ مسلمانوں کے نام پر سرکار کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے ۔مدرسہ موڈرنائزیشن کے نام سرکار نے ہزاروںمدارس کو مدرسہ بورڈ سے ملحق کرکے وہاں اساتذہ کی بھرتی تو کرلی ،لیکن دوسال سے زیادہ عرصہ ہوگیا کہ انھیں تنخواہیں تک نہیں ملیں،جب کہ بجٹ میں 479کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،اب کوئی یہ بتائے کہ بھوکے پیٹ اساتذہ کیا تعلیم دے سکیں گے ،سرکاری پرائمری اسکولوں کا نظام پہلے ہی اندھیر نگری چوپٹ راج کا شکار ہے ۔مسلمان انہی دونوں جگہ تعلیم پاتے ہیں ،یا تو وہ سرکاری اسکولوں کا رخ کرتے ہیں ،یا مدارس کا ،دونوں کا حال آپ کے سامنے ہے ،سرکار نے مڈ ڈے میل اور چند روپوں کے وظیفے کے نام پر مسلمانوں کا استحصال کیا ہے۔کیا سرکار ان دونوں اداروں کو درست نہیں کرسکتی ،وہ چاہے تو آن کی آن میں درست کرسکتی ہے لیکن نہیں کرے گی ،اس لیے کہ ان کے درست ہوجانے سے مسلمانوں کا تعلیمی گراف بڑھ جائے گا ۔ مسلمان پڑھ لکھ جائے گا اورشعور حاصل کرلے گا پھر وہ حکومت میں اپنا حصہ طلب کرے گا ۔ایسا بھی نہیں کہ اتر پردیش کی اسمبلی میں مسلمان نمائندے نہ ہوں،یا وہ سرکاروں کا حصہ نہ رہے ہوں ،ماضی میں تعلیم کے شعبے بھی ان کے پاس رہے ،لیکن انھیں بھی قوم سے زیادہ اپنی کرسی کی فکر رہی ہے یا وہ اپنی حکومتوں کے بندھوا مزدور رہے ہیں۔

2019-20کے ایک سروے کے مطابق اترپردیش میں 40.83فیصد مسلمان ناخواندہ یعنی جاہل ہیںجب کہ باقی لوگ صرف 34فیصد لوگ جاہل ہیں ،تقریباً 29فیصد مسلمان صرف پرائمری تک تعلیم یافتہ ہیں، پرائمری ایجوکیشن کی صورت حال اوردوچار درجے کی تعلیم کا کیا معیار ہوتا ہے اس سے آپ واقف ہیں ، انھیں بھی ناخواندوں میں ہی شمار کرنا چاہیے۔اس طرح 70فیصد مسلمان نا خواندہ ہیں۔صرف 30فیصد مسلمان ہی ہیں جو لکھ پڑھ سکتے ہیں۔مسلمان13.89فیصد آٹھویںپاس ہیں،غیر مسلموں میں یہ شرح 17فیصد ہے۔ 12.22فیصدمسلمان ہائی اسکول یا انٹر میڈئیٹ ہیں ۔3.33فیصدمسلمان گریجویٹ ہیں اور غیر مسلم اس کا دوگنا6.17فیصدگریجویٹ ہیںاور1.11فیصد مسلمانوںنے گریجویشن سے اوپر کی تعلیم حاصل کی ہے اور برادران وطن میں یہ شرح بھی دوگنی یعنی 2.13فیصد ہے ۔ یہ اعداد و شمار ہیں جو اتر پردیش کی خیر امت سے متعلق ہیں ۔اب آپ اسی سے اندازہ لگالیجیے کہ ڈاکٹر ،انجینئر کتنے ہوں گے ،آئی اے ایس اور آئی پی ایس تو پوری ریاست بھر میں ہر سال دو چار ہی ہوتے ہیں۔ایک وہ وقت تھا جب سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی شرح 35فیصد تھی ،ایک آج کا دن ہے کہ یہ شرح 3فیصد سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔یہ وہی اتر پردیش ہے جہاں 77یونیورسٹیاں ہیں ،جہاںکہنے کو ہر شہر میں کالج ہیں ،جہاں مدارس کی ایک لمبی فہرست ہے۔آخر اس پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے؟

اتر پردیش کے مسلمانوں کی بدحالی اور تعلیمی پسماندگی کی اصل ذمہ دار نام نہاد سیکولر پارٹیاں ہیں،جنھوں نے مسلمانوں کو بندھوا ووٹ سمجھا،ہر بار نئے نئے انداز سے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کیے ،بدلے میں دوچار مسلمان وزیر بنے ،کبھی رمضان میں افطار کرادیا،کسی مزار پر پھولوں کی چادر بھیج دی،بہت ہوا کسی نے قبرستان کی چہار دیواری کرادی، ایک حکومت نے اردو کو سرکاری سطح پر دوسری زبان کا درجہ دینے کا بل پاس کردیا ،ایک صاحب نے بابری مسجد کے تعلق سے کارسیوکوں پر دوچار گولیاں چلادیں،ایک حکومت نے کسی زمانے اردو ٹیچربھرتی کردیے ،بس ایک ایک کام کرکے پندرہ بیس سال تک ووٹ حاصل کرتے رہے ۔کسی حکومت نے اور ان کے ساتھ شامل مسلم ممبران اسمبلی نے مسلمانوں کی تعلیم کا کوئی منصوبہ کبھی نہیں بنایا۔مسلم علاقوں میں دور دور تک اسکول نہیں ہیں۔اسکول ہیں اساتذہ نہیں ہیں۔کہیں بلڈنگ نہیں ہے ،پورا تعلیمی نظام کرپشن کا شکار ہے ۔پرائیویٹ تعلیمی ادارے مہنگے ہیں جن میں مسلم بچے نہیں پڑھ سکتے ،ان کے اخراجات کا بار عام مسلمان برداشت نہیں کرسکتے ۔اس کے باوجود بھی ہمارے مسلم قائدین ایک بار پھر اتر پردیش میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔انھیں اسٹیج سے دھکا دے کر بھگایا جارہا ہے ،ان کا نام لینا بھی کسی کو گوارا نہیں،لیکن ہمارے سیاسی رہنما ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں ،کیوں کہ وہ جیت کر اپنے مال و دولت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں ۔قوم کی خدمت کے نام پر قوم کا سودا کررہے ہیں۔کیا 2022کے الیکشن میں کوئی سیاسی پارٹیوں سے یہ پوچھنے کی جرأت کرے گا کہ ان کے پاس مسلمانوں کے لیے کیا ایجنڈا ہے اور انھوں نے ماضی میں جو وعدے کیے تھے وہ کیوں پورے نہیں ہوئے ۔جب قوم کے ایمان فروش لوگ قائد بن جاتے ہیں تو قومیں اسی طرح غلام ہوجاتی ہیں جس طرح آج اتر پردیش کا مسلمان ہے ۔

تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ہر شخص کو بیدار ہونا ہوگا۔ملی تعلیمی اداروں کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا،عام مسلمانوں کو بھی وظیفہ خوری اور مڈ ڈے میل کے بجائے تعلیم پر بات کرنا ہوگی ، سرپرستوں کو سرکاری نظام تعلیم کے ذمہ داروں سے پوچھنا ہوگا کہ ان کے بچوں کے اسکولوں میں اساتذہ کیوں نہیں ہیں ؟مگر معاف کیجیے بیشتر والدین اپنے بچوں کے وظیفے کی بابت تو اسکول کے ماسٹر سے چار بار ملتے ہیں کبھی ان کی تعلیم کے لیے نہیں ملتے ۔الحاق شدہ مدارس کو اپنے اساتذہ کی تنخواہوں کا خود بھی انتطام کرنا ہوگا ،پوری قوم میں تعلیمی بیداری کی ایک مہم چلانا ہوگی کہ’’ ایک وقت کھائیں اپنے بچوں کو پڑھائیں گے ‘‘۔سیاسی نمائندوں کو اپنی سیاسی پارٹیوں پر دبائو ڈالنا ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔مگر یہ سب کچھ عارضی حل ہیں،اس کا پائدار حل حکومت میں اپنی حصے داری کے بعد ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔وہ حصے داری اسی وقت ہوگی جب آپ کی اپنی سیاسی جماعت ہو ،جس کی قیادت آپ خود کررہے ہوں۔آپ کی قیادت والی سیاسی جماعت کے چار نمائندے بھی ایوان میں آپ کی بات رکھ سکتے ہیں ،غیروں کی قیادت کے مسلم نام کے پچاس نمائندے بھی کچھ نہیں کرسکتے ،جیسا کہ ستر سال کا تجربہ آپ کے سامنے ہے ۔الیکشن آپ کے سامنے ہے ۔آپ چاہیں تو اپنی تقدیر کا نیا باب لکھ سکتے ہیں اور اگر پھر آپ نے اپنے ضمیر کا سودا کرلیا تواس سے بھی زیادہ برے دنوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN