دہرا دون :(ایجنسی)
ہری دوار دھرم سنسد کے دوران نفرت آمیز تقریر کرنے کے معاملہ میں یتی نرسنگھا نند کو اتراکھنڈ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ۔ ہری دوار نفرت آمیز تقریر کیس میں یہ دوسری گرفتاری ہے ۔ اس سے پہلے وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی کو پولیس نے گرفتار کیا گیا تھا ۔ ہری دوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں خاص مذہب کے خلاف نفرت آمیز تقریر کو لے کر یہ معاملہ سرخیوں میں آیا تھا۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ میں ہیٹ اسپیچ کو لے کر کارروائی کرنے کی فریاد کی گئی تھی ۔ سول سوسائٹی تنظیم اور کئی دیگر ہستیوں نے بھی وزیر اعظم مودی اور ہندوستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا ۔
پولیس پر بھڑک گئے تھے نرسنگھا نند
نرسنگھا نند بھی رضوی کی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ موجود تھے، انہوں نے پولیس کو جتیندر تیاگی کی گرفتاری روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نرسنگھا نند نے پولیس سے کہاتھاکہ وسیم رضوی ہمارے بھروسہ ہی ہندو بنے ہیں ۔ ہیٹ اسپیچ معاملہ میں درج مقدمے میں میرا بھی نام ہے۔ مجھے بھی ساتھ لےکر چلو، اس پر پولیس نے کہاتھا کہ ہمیں لیگل پروٹوکول کے تحت گرفتاری کرنی ہے۔ آپ بھی گاڑی سے ساتھ چل سکتے ہیں۔ اس کےبعد نرسنگھا نند بھڑک جاتے ہیں اور پولیس ٹیم سےکہتے ہیں کہ تم سب مروگے اوراپنے بچوں کو بھی مرواؤ گے۔
ہری دوار میں نفرت آمیز تقریر کیس میں درج معاملہ میں 10 سے زیادہ لوگوں کے نام ہیں ۔ ان میں نرسنگھانند ، جتیندر تیاگی اور اننا پورنا شامل ہیں ۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے بدھ کو اتراکھنڈ سرکار کو کارروائی کے بارے میں دس دنوں کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کیلئے کہا تھا ۔ عدالت عظمی کی مداخلت کے بعد اتراکھنڈ پولیس نے گرفتاریاں شروع کی ہیں ۔ وہیں گرفتاری کو لے کر یتی نرسنگھا نند نے پولیس افسران کو دھمکی دے ڈالی تھی ۔ نرسنگھانند نے کہا تھا کہ تم سب مروگے ۔
اس کیس میں سب سے پہلی گرفتاری وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی کی ہوئی تھی ۔ ہری دوار کے ایس ایس پی نے کہا کہ رضوی کو روڑکی میں نارسن بارڈر سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ رضوی نے کچھ دن پہلے ہی مذہب تبدیل کیا ہے ۔ اس سے پہلے وہ اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں ۔
ہیٹ اسپیچ سے وابستہ اس معاملہ میں پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش اور صحافی قربان علی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی ۔ عرضی گزار نے مذہب خاص کے خلاف متنازع بیانات کو لے کر خصوصی جانچ ٹیم کے ذریعہ آزادانہ ، معتبر اور غیر جانبدارانہ جانچ کرانے کی اپیل کی تھی ۔











