نئی دہلی: (ایجنسی)
شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کانگریس پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی پر تنقید کی ہے۔ سنجے راوت نے کہا ہے کہ اگر کوئی اصلی ہندتوا ہوتا تو وہ مہاتما گاندھی کو نہیں بلکہ محمد علی جناح کو گولی مارتا۔ دراصل راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ایک ہندتوا وادی نے گاندھی جی کو گولی ماری تھی۔ واضح رہے کہ آج مہاتما گاندھی کی 74ویں جینتی ہے۔ آج ہی کے دن یعنی 30 جنوری 1948 کو ناتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔
نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے سنجے راوت نے راہل گاندھی کے بیان پر اتفاق نہیںکیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر کوئی اصلی ہندتوا وادی ہوتا توہ وہ محمد علی جناح کو گولی مارتا۔ گاندھی کو گولی کیوں مارتا۔ جناح نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا، اگر ہمت تھی آپ میں اور آپ مرد تھے تو پاکستان کا مطالبہ کرنے والوں کو گولی مارتا۔ وہ حب الوطنی کا کام ہوتا۔
واضح رہے کہ اتوار کی صبح راہل گاندھی نے مہاتما گاندھی کو یاد کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا، ’ایک ہندتوا وادی نے گاندھی جی کو گولی ماری تھی۔ سب ہندتوا وادیوں کو لگتا ہے کہ گاندھی جی نہیں رہے۔ جہاں سچ ہے، وہاں آج بھی باپو زندہ ہیں!۔
واضح رہے کہ حال کے دنوں میں راہل گاندھی نے کئی بار ہندتوا وادی کا موضوع اٹھایا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں راجستھان میں ایک ریلی کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ لوگوں کو ہندو اور ہندتوا کے درمیان فرق بتانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ’مہاتما گاندھی ہندو تھے، گوڈسے ہندتوا وادی۔ فرق کیا ہوتا ہے؟ فرق میں آپ کو بتاتا ہوں۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے ہندو سچ کو تلاش کرتا ہے۔ مر جائے، کٹ جائے، پس جائے، ہندو سچ کو تلاش کرتا ہے۔ اس کا راستہ ستیہ گرہ ہے۔ پوری زندگی وہ سچ کو تلاش کرنے میں نکال دیتا ہے۔‘
راہل گاندھی نے مزید کہا تھا، ‘دو روحوں کی ایک ہی روح نہیں ہو سکتی، اسی طرح دو لفظوں کا ایک ہی مطلب نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر لفظ کے الگ الگ معنی ہوتے ہیں۔ آج ملکی سیاست میں دو لفظوں کا ٹکراؤ ہے۔ دو مختلف الفاظ سے۔ ان کے معانی مختلف ہیں۔ ایک لفظ ہندو دوسرا لفظ ہندتوا۔ یہ ایک چیز نہیں ہے۔ یہ دو مختلف الفاظ ہیں اور ان کا مطلب بالکل مختلف ہے۔ میں ہندو ہوں، لیکن ہندوتواوادی نہیں ہوں‘۔











