مین پوری:(ایجنسی)
ایس پی سربراہ اکھلیش یادو پہلی بار اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2022 میں حصہ لے رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے انہیں مین پوری کی کرہل اسمبلی سیٹ سے میدان میں اتارا ہے۔ وہیں پرچہ نامزدگی کے کچھ دن بعد آج انہوں نے کرہل میں انتخابی تشہیر کرتے ہوئے بی جے پی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ اس بار عوام کے جوش و جذبے کے سامنے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ٹرانسفارمر اڑجائے گا۔ میں پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ بی جے پی اپنا ٹرانسفارمر نہیں بچا پائے گی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرہل ریلی میں زبردست بھیڑ کو دیکھ کر کہا، ‘کووڈ رولز پر عمل کرتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس الیکشن کا سب سے بڑا پروگرام کہیں بھی ہو رہا ہے تو کرہل اسمبلی میں ہو رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی مین پوری کے کرہل میں ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا، ’سماج وادی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئی ٹی سیکٹر میں 22 لاکھ نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ ساتھ ہی ٹی ای ٹی، بی ایڈ، آنگن واڑی ورکس کے ساتھ روزگار سیوکوں کی سرکار بننے پر مدد کی جائے گی۔ انہوں کہاکہ ہمارے کسان بھائیوں کو کھاد نہیں ملا، اگر کھاد مل بھی گئی ہوگی تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ بوری میں سے کھاد چوری ہوگئی ۔ کسانوں نے بی جے پی سرکار میں کافی تکلیفوں کا سامنا کیا ہے ، انہوں نے مزید کہاکہ کسانوں کی آمدنی دوگنی نہیں ہوئی ہے۔ کسانوں سے لے کر نوجوانوں تک بھارتیہ جنتا پارٹی کو اترپردیش سے ہٹانےکےلیے تیار ہیں۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد بھی آنکھ – کان کھل جائیں گے۔ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے گرمی شانت کرنے والے بیان پر کہاکہ بابا وزیراعلیٰ کہہ رہے ہیں، گرمی نکال دیں گے، کیا وہ کمپریشر ہیں؟ اس سے پہلے ایس پی سربراہ نے آگرہ کے باہ اسمبلی حلقہ میں انتخابی جلسہ کو خطاب کرتےہوئے کہا تھا کہ پردیش میںایس پی کی سرکار بننے پر باہ میں اٹل بہاری واجپئی کے نام پر یونیورسٹی بنایا جائے گا۔










