نئی دہلی :(ایجنسی)
اترپردیش میں 10 فروری سے سات مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی وجہ سے سیاسی گرما گرمی بڑھ رہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں خود کو اقتدار کے قریب بتا رہی ہیں، لیکن اس دوران تمام ایجنسیوں کے ذریعہ اوپنین پول جاری کئے جارہے ہیں ۔ جس میں یہ جاننے کی کوشش ہے کہ آخر اس بار عوام کاموڈ کیاہے ؟
بتادیں کہ اے بی پی سی ووٹر کے تازہ سروے کے مطابق بی جے پی اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس بار 225 سے 237 سیٹیں جیت سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایس پی کے کھاتے میں 139-151 سیٹیں آسکتی ہیں۔ بی ایس پی 13-21 اور کانگریس 4-8 پر سمٹ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ 2 سے 6 سیٹیں دوسروں کی جھولی میں جا سکتی ہیں۔
غور طلب ہے کہ حکومت مخالف لہر کے بعد بھی یوپی کےاقتدار میں بی جے پی کے آنے کو لے کر سی ووٹر کے فاؤنڈر یشونت دیشمکھ نے بتایا کہ 2017 میں جس بڑی جیت کے ساتھ بی جے پی اقتدار میں آئی تھی اس کےمقابلے اس بار اگر 100 سیٹیں کم بھی آئیں ، توبھی اس کے اقتدار میں بنے رہنے کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کا ووٹ شیئر اس بار بھی 40 فیصد سے کم نہیں ہوگا۔
یشونت دیشمکھ نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے نچلے طبقے کے لوگوں کے لیے لائی گئی اسکیموں کے فوائد نے حکومت مخالف لہر کے بعد بھی انہیں مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال میں لوگوں کو راشن دینا، کھاتوں میں پیسہ ٹرانسفر کرنا، لوگوں کو رہائش فراہم کرنا، ٹوائلٹ مہیا کرانا ، ان تمام اسکیموں کا فائدہ براہ راست نچلے طبقے کے لوگوں تک پہنچ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کا ووٹ شیئر مضبوطی کے ساتھ 40 فیصد سے اوپر بنا ہوا ہے ۔
دیشمکھ نے کہا کہ نریندر مودی کی شبیہ، ان کی مقبولیت بی جے پی کی تمام خامیوں کی تلافی کرتی نظر آتی ہے۔ بتادیں کہ تمام سروے میں بی جے پی کو اب بھی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یوپی کے دو بڑے علاقوں پوروانچل اور مغربی یوپی میں سماج وادی پارٹی سے سخت مقابلہ ہوتا نظر آرہا ہے۔










