اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

حجابو فوبیا:ہندو خاتون سے کرونولوجی سمجھئے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
حجابو فوبیا:ہندو خاتون سے کرونولوجی سمجھئے
254
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ماشا

کچھ عرصہ پہلے تک یہ بحث ہوتی تھی کہ کیا حجاب اور برقع خواتین پر ہراساں کرنے کے ہتھیار ہیں؟ کیا کپڑے کا ایک ٹکڑا عورتوں کے وجود پر سوال کڑےکرتا ہے؟ حجاب اس بات کا ثبوت ہے جسے انگریزی میںلیک آف ایجنسی ( Lac of Agency) کہتے ہیں، لیکن کرناٹک میں حجاب تنازع نے پوری بحث کو ایک مختلف سمت میں موڑ دیا ہے۔

ریاست میں کئی اسکول انتظامیہ اس کپڑے کے ٹکڑے کے لیے نفرت سے بھری ہوئی ہے، جو کہ جبر کا مبینہ ہتھیار ہے۔ اب یہاں حجاب صرف لیک آف ایجنسی نہیں دکھا رہا ہے۔ یہ عوامی مقامات پر خوف پیدا کرنا شروع کر دیا ہے۔ یا اس کے ذریعے عوامی مقامات پر خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔

برقع تنازع کی ایک طویل تاریخ ہے

اس جھگڑے کی تاریخ سات سمندر پار سے شروع ہوئی تھی۔ 1989 میں فرانسیسی اسکولوں میں حجاب پر بحث چھڑ ی۔ اسلامی اسکارف یا حجاب پر تنازع 18 ستمبر 1989 کو شروع ہوا، جب شمالی فرانس کے شہر کریل میں گیبریل ہیوز مڈل اسکول کی تین لڑکیوں کو صرف اس لیے اسکول سے معطل کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے حجاب اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔

1994 اور 2003 کے درمیان، مڈل اور ہائی اسکول کی تقریباً 100 لڑکیوں کو حجاب پہننے کی وجہ سے معطل، یا نکال دیا گیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے نصف سے زیادہ کیسز میں اسکول سے معطلی یا اخراج کو فرانسیسی عدالتوں نے کالعدم قرار دیا ۔ پھر بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

اس وقت یورپ کے کئی ممالک نے عوامی مقامات پر چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں مارچ 2021 میں ایک قانون کے ذریعے عوامی مقامات پر چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ نیا قانون عام لوگوں کی رضامندی سے لایا گیا ہے جس کی قیادت وہاں کی ایک دائیں بازو کی تنظیم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈنمارک، ہالینڈ اور آسٹریا نے بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کی ہیں۔

‘’اسلامی علیحدگی پسند‘ کا خطرہ؟

خاص بات یہ ہے کہ جس انداز میں یہ پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ بہت خطرناک ہیں۔ اکتوبر 2020 میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ایک متنازع بل لے کرآئے۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ فرانس میں مقیم تقریباً 60 لاکھ مسلمانوں کی ‘’کاؤنٹر سوسائٹی‘ بنانے کا خدشہ ہے۔ یہ بل ‘’اسلامی علیحدگی پسندی‘کے خطرات پر قابو پانے کے لیے لایا جا رہا ہے۔

ہم فرانس میں ان پابندیوں کو سامراجی سوچ سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں، جہاں پردے میں رہنے والی خواتین سیاسی ہتھیار بن جاتی ہیں۔ یہ تصور نسلی برتری سے پیدا ہوتا ہے جہاں مسلم خواتین کو ’بچائے جانے‘ کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی سامراج ایک طویل عرصے سے اپنی کالونیوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو ’بہتر بنانے‘، انھیں ’مہذب‘ بنانے کی وکالت کر رہا تھا۔

حجاب کیا ہے؟ڈر یا دہشت، پہلے طے کریں

لیکن کیا اب یہ پابندیاں کافی ہیں؟ ہندوستان میں اس پورے واقعہ کواسلامی علامتوں کے بارے میں پیدا ہونے والے ڈر سے بھی دیکھا جانا چاہئے۔ 9/11 کے حملوں اور افغانستان پر چڑھائی کے بعد سے امریکی سرکار نے لوگوں میں اسلام کو لے کر الگ ہی ڈر پیدا کیا ۔

چونکہ ایسا کرنا اس کے ہر عمل کو جائز قرار دینے کے لیے ضروری تھا۔ اب کچھ لوگوں کے لیے حجاب ہراساں کئے جانے کا ہتھیار ہے تو دوسروں کے لیے بنیاد پرست اسلام کا خطرہ۔ تو، آخر یہ کیا ہے – ظلم یا خطرہ؟ اس دوران مسلم خواتین پھنس جاتی ہیں۔ مغرب میں حجابی خواتین ایک ’غیر ملکی عنصر‘ ہیں، ’ادر‘ (دوسری)ہیں۔ اور بھارت میں اسی طرح کی سیاست کو بی جے پی فروغ دے رہی ہے ۔

پچھلے آٹھ سالوں کے دوران تمام مسلمانوں کو پاکستان جانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ مبینہ لو جہاد کے حوالے سے نعرے لگائے گئے ہیں۔ انہیں گائے کے قاتل، دہشت گرد بتایا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ زیادہ بچے پیدا کرکے بھارت پر قبضہ کرنے کامنصوبہ بنا رہے ہیں۔ مندرتوڑکر مسجد بنانےکی بدمعاشی کررہے ہیں۔ تین جملے بول کر اپنی عورتوں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔

یعنی مسلمانوں یا اسلام کا یہ خوف جو عوامی مقامات پر پیدا ہوا ہے وہ ہندوستان کی موجودہ سیاست کا اظہار ہے۔ یہ اظہار واضح طور پر کہتا ہے کہ ہم مسلمانوں کو ہندوؤں پر غلبہ حاصل نہیں ہونے دیں گے۔ حجاب ایک ٹیک اوور کی طرح ہو گیا ہے، دیکھیں مسلمان ہر عوامی جگہ پر قابض ہورہے ہیں۔

ان عوامی مقامات پر جو ہندوؤں کی ملکیت ہیں۔ ہندوؤں کو اس ملکیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ان کا علاقہ ہے اور یہاں مسلمان صرف ان کی شرائط پر ہی رہ سکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ حجاب انہیں ڈراتا ہے۔

ایک مذہب کے لوگوں کو سیاسی طور پر متحرک کرنے کے لیے دوسرے مذہب کے لوگوں سے ڈرایا جا رہا ہے۔ انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ اگر وہ متحد نہ ہوئے تو فنا ہو جائیں گے۔ فلسطینی ثقافتی نظریہ نگار ایڈورڈ ڈبلیو سیڈ، جسے ادیگرنگ بھی کہا جاتا ہے۔ادیگرنگ یعنی مذہب، جنس ، سماجی واقتصادی حیثیت کی وجہ سے لوگوںکےساتھ متعصب ہونا ۔

برقع کو رجعت پسند کیوں کہا جائے ؟

حجاب یا برقع پہننے یا نہ پہننے پر ایک طویل تنازع چل رہا ہے۔ امریکی ماہر بشریات اور حقوق نسواں حنا پاپانیک نے کئی سال پہلے ’’پورٹ ایبل سیکلوجن ‘ کہا تھا ، سیکلوجن یعنی تنہائی ، ان کی بعد کی نسل کی ماہر بشریات لیلا ابو لغوداس کی وضاحت اس طرح کرتی ہیں کہ برقع دراصل ایک موبائل ہومس کی طرح کام کرتا ہے۔ وہ خواتین کو عوامی مقامات اور اجنبیوں کے درمیان آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس کے علاوہ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے عورتوں کی ایجنسی ختم ہوتی ہیں۔ دراصل ایجنسی، پسند اورشخصیت جیسے الفاظ کے معنی بھی ہر سماج میں الگ الگ ہوتےہیں۔ ہر سماج کا اپنا طور طریقہ ہوتاہے۔ ہرطور طریقے پر سوال کھڑے کرنےسے پہلےیہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس کی مخالفت کہاں سے کی جارہی ہے۔ عورتیں خود اس کی مخالفت کررہی ہیں یا ان کی جگہ مرد ہی فیصلہ کررہے ہیں ۔

لیلا ابو لغود کا سوال یہ بھی ہے کہ خواتین کو ہمیشہ پردہ داری میں رکھا نہیں جاتا۔ حالیہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خواتین کو زبردستی بے نقاب کیا گیا ہے۔

شام کے مشہور شاعر محزہ کہف نے اپنے مضمون ‘’فرام ہیر رائل باڈی دی راب ویج رمیوڈ‘ میں بتایا ہے کہ کیسے بیسویں صدی میں سرکاروں نے ترکی، شام اورایران جیسے ممالک میں جدیدیت کےنام پر عورتوںکو بے عزت کیا۔ انہیں عوام میں پردے میں نہ ہونے پر سزا دینے کے بجائے اس کی بات کی سزا دی کہ انہوں نے پردہ کیاہوا ہے۔

خواتین کو بندوق کی نوک پر بے نقاب کیا گیا تاکہ حکومت خود کو ترقی پسند اور سیکولر قرار دے سکے۔ یعنی حجاب یا برقع پہننا یا نہ پہننا، دونوں صورتوں میں خواتین سیاسی ہتھیار بن گئیں۔ خواتین کی خود کو منتخب کرنے کی آزادی خطرے میںپڑ گئی۔

جیسا کہ کہف لکھتا ہے کہ پردے کی موجودگی عورت کی طاقت نہیں چھینتی اور نہ ہی اس کی غیر موجودگی اس طاقت کو چھینتی ہے۔ یہ طاقت اس بات سے ملتی ہے کہ انہیں معاشی، سیاسی اور خاندانی حقوق مل گئے ہیں۔ یعنی حجاب یا برقع اپنے آپ میں خواتین پر ظلم نہیں ہے بلکہ ظلم خواتین کو سماجی، سیاسی اور معاشی اداروں سے دور رکھنا ہے۔ یعنی انہیں اسکولوں میں پڑھنے یا تنہائی میں پڑھانے نہ دے کر ان کی طاقت، ایجنسی چھین لی جا رہی ہے۔ ورنہ یہ ایک طویل سازش کا حصہ ہے، جو مسلسل یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ میری پلیٹ میں کیا پیش کیا جائے گا؟میری الماری میں کون سی کتاب ہوگی؟میرے جسم پر کپڑے کیا ہوں گے۔

(بشکریہ : دی کوئنٹ ہندی)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN