مئو :(ایجنسی)
باہوبلی ایم ایل اے مختار انصاری کو بدھ کو بڑی راحت ملی ہے۔ مئو کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے گینگسٹر معاملے میں مختار انصاری کو ضمانت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی باندہ جیل کے افسر کو اس معاملے میں رہا کرنےکا حکم بھی دیاہے۔ حالانکہ مختار پر کئی دیگر معاملے بھی گزشتہ دنوں درج ہوئےہیں۔ ایسے میں کم سے کم یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران وہ جیل میں ہی رہیں گے ۔
مئو پولیس نے ٹویٹ کے ذریعے واضح کیا کہ مختار انصاری کو جیل سے رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے ایک ٹویٹ میں لکھا گیا کہ آئی ایس 91کے نام سے رجسٹرڈ گینگ کا لیڈر مافیا مختار انصاری کے خلاف اس وقت کل 12 کیس درج ہیں۔ ان میں غازی پور میں 4، وارانسی میں ایک، اعظم گڑھ میں ایک، بارہ بنکی میں ایک اورمئو میں 5 کیس درج ہیں ۔
مختار انصاری تین دہائیوں بعد پہلی بار الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں۔ ان کی جگہ مئو صدرسیٹ سے بیٹے عباس انصاری کو اتارا گیا ہے ۔ عباس کو ایس پی اتحاد میں شامل ایس بی ایس پی نے ٹکٹ دیاہے ۔
مختار انصاری کے وکیل داروغہ سنگھ کے مطابق 2010 میں مئو کے جنوبی ٹولہ پولیس اسٹیشن میں گینگسٹر کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ داروغہ سنگھ نے کہا کہ صرف پولیس ہی گینگسٹر کا مقدمہ درج کرتی ہے۔ 2010 میں ٹرائل کے بعد 2011 میں ریمانڈ کیا گیا۔ مختار تب سے جیل میں ہے۔
مختار کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ گینگسٹر کی سزا دس سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ جبکہ مختار اس سے زیادہ عرصہ سے جیل میںہے۔ اس لیے انہیں ضمانت دی جائے۔ ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت نے مختار کی درخواست اور دعویٰ درست پایا۔ مختار کی ایک لاکھ کے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی گئی۔ اس کے ساتھ ہی باندہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو اس معاملے میں مختار کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مختار انصاری کو گینگسٹر کیس میں بھلے ہی ضمانت مل گئی ہے لیکن ان کی جیل سے رہائی فی الحال ممکن نہیں نظر آتی ہے ۔ ان پر یوگی سرکار میں ہی 12 مقدمے درج ہوئےہیں۔ ان کےاوپر کل 15 معاملے درج ہیں۔ پنجاب سے یہاںلانے کے بعدہی ایمبولینس کا فرضی رجسٹریشن سمیت کئی معاملوں میں ان کو نامزد کیا گیا ہے ۔
یوپی کے سابق ڈی جی پی او پی سنگھ نے ایک چینل سے بات چیت میں کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ مختار انصاری ابھی جیل سے باہر آ سکتے ہیں۔ انہیں صرف ایک کیس میں ضمانت ملی ہے۔ اس کے خلاف کئی اور مقدمات بھی درج ہیں۔ دوسری جانب ایک اور سابق ڈی جی پی وکرم سنگھ کا کہنا ہے کہ مختار انصاری کو ضمانت ملنا بدقسمتی ہے۔
اس ضمانت کے خلاف اپیل ہونی چاہیے۔ اگرچہ ان کی رہائی مشکل ہے لیکن دیگر مقدمات میں بھی ضمانت مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مختار انصاری نے الیکشن کے وقت کا فائدہ اٹھایا ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ ضلع انتظامیہ اور پولیس الیکشن میں مصروف ہیں۔ اب ٹھوس دفاع کو یقینی بنانا ہوگا۔










