نئی دہلی :(ایجنسی)
جے این یو کے سابق طلباء رہنما عمر خالد کو دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے میں جمعرات کو دہلی کی ایک عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا۔ جبکہ عدالت کی جانب سے پولیس کو ایسا نہ کرنے کو کہا گیا تھا، لیکن پھر بھی ایسا ہی ہوا اور اس پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا جیل انتظامیہ کی جانب سے عمر خالد کو ہتھکڑیاں لگانے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے؟
دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ستمبر 2020 میں عمر خالد کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق دہلی کے جیل محکمہ نے کہا ہے کہ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا عمر خالد کو واقعی ہتھکڑی لگائی گئی تھی۔
عمر خالد کو ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج کو اس حوالے سے عمر خالد کے وکیل تردیپ پیاس نے آگاہ کیا۔
خالد کے وکیل نے جج سے کہا کہ یہ حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہے اور اس معاملے میں غلط کاموں کا پتہ لگانے کے لیے انکوائری کرائی جائے۔ اس پر جج نے کہا کہ ان کی عدالت نے عمر خالد کے حوالے سے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں جانچ ایجنسی یعنی دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے کبھی ایسا مطالبہ نہیں کیا ہے۔
یہ فسادات شمال مشرقی دہلی میں 23 فروری 2020 کو شروع ہوئے اور 25 فروری تک جاری رہے۔ اس دوران علاقہ بری طرح پریشان رہا اور فسادیوں نے گاڑیوں اور دکانوں کو آگ لگا دی۔ جعفرآباد، ویلکم، سیلم پور، بھجن پورہ، گوکل پوری اور نیو عثمان پور وغیرہ علاقوں میں پھیلنے والے اس فساد میں 53 افراد ہلاک اور 581 زخمی ہوگئے تھے۔










