بنگلور :(ایجنسی)
کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر بحث پانچویں دن بھی جاری رہی۔ اٹارنی جنرل نے ریاست کی جانب سے پیش ہونے کے لیے دو دن کا وقت مانگا ہے۔ سماعت کل بھی جاری رہے گی۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر ونود کلکرنی نے آج حجاب پر پابندی سے عبوری راحت مانگی اور دعویٰ کیا کہ حجاب پر پابندی قرآن پر پابندی کی طرح ہے۔ ڈاکٹر کلکرنی نے عدالت سے کہا، براہ کرم آج ہی ایک حکم جاری کریں کہ جمعہ اور رمضان کے مہینے میں حجاب پہننے کی اجازت ہوگی۔
ایڈووکیٹ ونود کلکرنی نے کہا کہ حجاب پر پابندی سے طالبات کی ذہنی صحت متاثر ہورہی ہے۔ لہٰذا یہ اجازت رمضان المبارک میں جمعہ کے دن دی جائے۔ رمضان مسلمانوں کے لیے مقدس ترین مہینہ ہے۔ اس دوران ہر جمعہ کو سب سے زیادہ مبارک دن سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے بحث کی کہ کیا قرآن میں حجاب کی سفارش کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر کلکرنی سے پوچھا کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ قرآن میں حجاب کا ذکر کہاں ہے؟ اس پر ڈاکٹر کلکرنی نے کہا کہ میں خود ایک بھکت برہمن ہوں… میں عرض کرتا ہوں کہ موجودہ حکم قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہو سکتا ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مہربانی کرکے کوئی حکم جاری کریں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا، ہم آپ کی دلیل پر غور کریں گے۔
اس دوران کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک سماجی کارکن کی عرضی کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا، ہم اس بات سے مطمئن نہیں ہیں کہ یہ پی آئی ایل قواعد کے مطابق دائر کی گئی ہے۔ ہم جرمانہ لگائیں گے۔
دوسری طرف شیموگہ کے ڈی وی ایس کالج کے گیٹ پر حجاب پہننے والی تقریباً 50 طالبات کو آج روک دیا گیا۔ لڑکیوں سے کہا گیا کہ وہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے حجاب اتار دیں۔
کرناٹک حکومت نے ان تمام اسکولوں اور کالجوں کو دوبارہ کھول دیا ہے جو حجاب کی تحریک کی وجہ سے بند ہوئے تھے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے نو اضلاع میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ فی الحال کوئی بھی طالب علم کسی بھی قسم کی مذہبی علامت پہن کر کلاس میں حصہ نہیں لے سکتا۔ ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت جاری ہے ۔










