لکھنؤ :(ایجنسی)
بی جے پی لیڈر اپرنا یادو اپنی پارٹی کو کامیاب بنانے کے لیے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران کئی عوامی جلسوں سے خطاب کرتی نظر آرہیہیں۔ وہ ان تمام مسائل پر نیوز چینل سے بات کر رہی تھیں۔ اس دوران ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے بی جے پی میں شامل ہوتے وقت راشٹرواد کا نام لیا تھا، جب کہ وہ اپنی تقریروں میں ذات -پات کی بات کرتی ہے؟ اس سوال پر ملائم کی چھوٹی بہو نے اپنا دفاع کرتے ہوئے جواب دیا۔
دراصل، اپرنا یادو ’اے بی پی نیوز‘ کو انٹرویو دے رہی تھی۔ اینکر سمیت اوستھی نے اپرنا سے سوال کیا – آپ اپنی تقریر میں کہہ رہی ہیں کہ جو یادو تھے، وہ سینا کے آگے بھالا لے کرچلتے تھے،اگر آپ نے راشٹر واد کے نام پر بی جے پی جوائن کی تھی تواپنی تقریر وں میں ذات – پات کی بات کیوں کرتی ہیں؟ اس سوال پر اپرنا نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ اس دن یادو بھائیوں کی بی جے پی میںجوائننگ تھی اس لئے میںنے یہ بات کہی تھی۔
کون سی کتاب میں پڑھ کر آپ نے یہ بات کہی؟
اینکر کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر اپرنا نے کہا کہ آپ ہسٹری کےاسٹوڈنٹ ہیں لیکن میں پولیٹکل سائنس کی طالبہ تھی۔ میں نے بھی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ اگر آپ قدیم تاریخ اٹھا کر پڑھیں تو آپ کو مہابھارت میں بھی مل جائے گا، اس کے لیے آپ کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
آپ ایک یادو کے طور پر مہم چلاتی ہیں یا راجپوت کے طور پر؟ :
جب اپرنا یادو سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) کی بہو ہوں… اسی وجہ سے میں یادو ہوں۔ پتا نہیں وہ اس چیز کو ذات پر کیوں لا رہے ہیں۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپرنا کہتی ہیں کہ اگر ہم راشٹرواد کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تو پھر ذات – پات کی بات کہاں سے آگئی۔
کیا آپ کو دکھ ہوا جب پی ایم نے ملائم فیملی پر حملہ کیا؟
اینکر نے اپرنا سے سوال کیا کہ گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں پی ایم نے ملائم سنگھ پر کنبہ پروری کو لے کر حملہ کیا تھا؟ اس کے جواب میں اپرنا نے کہا کہ مجھے بالکل تکلیف نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے سچ بولا۔ جانکاری کے لیے بتاتے چلیں کہ اپرنا یادو اس بار اتر پردیش اسمبلی الیکشن نہیں لڑ رہی ہیں، حالانکہ وہ پارٹی کے لیے انتخابی مہم ضرور چلا رہی ہیں۔










