اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مسلمانوں کی جہالت اور غربت کی سب سے بڑی وجہ دین کا محدود تصور

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مسلمانوں کی جہالت اور غربت کی سب سے بڑی وجہ دین کا محدود تصور
284
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:کلیم الحفیظ-نئی دہلی

اس مضمون کو لکھنے کا سبب ایک واقعہ بنا۔ہوا یہ کہ دہلی کی ایک جھگی بستی کا رہنے والا ایک مسلم لڑکا جس کی عمر 18سال رہی ہوگی ،تہاڑ جیل میں پولس کی مار کی تاب نہ لاکر چل بسا۔اس حادثے پر اس بستی میں ہنگامہ ہوا۔سڑک پر جنازہ رکھ کر احتجاج ہوا۔ہزاروں لوگوں نے سڑک جام کردی۔پولس کی یقین دہانی پر میت کی تدفین عمل میں آئی ۔اس بستی کے اطراف میں بڑی بڑی عمارتیں ہیں،ان میں بعض امیر مسلمانوں کی ہیں ۔یہ بستی قلب دہلی میں واقع ہے ۔اکثر جھگی بستیاں کسی گندے نالے یاشہر کے کنارے کوڑے کے ڈھیر کے آس پاس ہیں مگر یہ بستی لب سڑک ہے ۔اس بستی میں بیشتر مسلمان ہی رہتے ہیں،جن کا تعلق بنگال اور بہار سے ہے ۔یہاں جو مسلمان رہتے ہیں ان میں سے ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی ،میں نے انھیں بتایا کہ میں جیل میں مرجانے والے نوجوان کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے آیا تھا اور میں نے اہل خانہ کو اپنی مدد کا یقین دلایا ہے اور میں خاطیوں کے خلاف کارروائی بھی کروں گا۔انھوں نے بڑی حیرت سے کہا بھئی مجھے تو معلوم نہیں ،یہ تو آپ سے سن رہا ہوں ۔حالانکہ حادثے کو کئی دن گزر چکے تھے۔باتوں باتوں میں موصوف نے کہا کہ دن بھرباہر رہنا ہوتا ہے۔میں تہجد پڑھ کر فلاں مسجد میں فجر پڑھتا ہوں کیوں کہ وہاں اول وقت ہوتی ہے ،ظہر،عصر عام طور پر دفتر میں ہوجاتی ہے اور مغرب فلاں مسجد میں اور عشاء فلاں جگہ پر پڑھتا ہوں،موصوف ایک بڑی کمپنی کے مالک ہیں اور بلا مبالغہ ارب پتی ہوں گے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ دہلی کے لوگ دن بھر مصروف رہتے ہیں۔اس میں بھی کوئی تعجب کی بات نہیں کہ دہلی میں ایک ہی فلیٹ میں رہنے والے ایک دوسرے سے شناسا نہیں ہوتے،بلکہ ہونا بھی نہیں چاہتے۔ہونا بھی نہیں چاہتے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرے ایک دوست نے بتایا کہ وہ جس بلڈنگ میں رہتے ہیں ۔اس میں چار فلور ہیں اورہر فلور پر دو دو فلیٹ ہیں۔میں جب اپنے فلیٹ سے آتا جاتا تو باقی لوگوں کو جو اس بلڈنگ میں رہتے ہیں ان کو حسب موقع سلام کرلیتا۔ایک صاحب سے تقریباً روز ہی سلام دعا ہوتی ۔ایک دن وہ کہنے لگے کہ آپ سلام کیوں کرتے ہیں؟اس سوال پر میں نے کہا ،جناب سلام کرنا ثواب ہے ،اس سے شناسائی پیدا ہوتی ہے ،ہم ایک ہی بلڈنگ میں رہتے ہیں ،ہمیں ایک دوسرے سے واقف ہونا چاہئے ،انھوں نے برا سا منھ بنا کر کہا نہیں، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔آپ مجھے سلام نہ کیا کریں۔

آپ ان دونوں واقعات کو دیکھیے اور پھر اسلام کی تعلیمات،رسول اکرم ﷺ کے اسوہ،خیر امت ہونے کے تقاضے،عام انسانی اخلاق کی روشنی میں اپنا جائزہ لیجیے۔ہمارے یہاں کتنے ہی تہجد گزاراور نوافل کے پابند حضرات ہیں ،اللہ نے جن کو مختلف صلاحیتوں اور نعمتوں سے نوازا ہے ،کسی کو بیش بہا مال دیا ہے،کسی کو علم عطا کیا ہے ،کسی کو فرصت کے لمحات بخشے ہیں۔لیکن ہم ان نعمتوں کا صحیح سے استعمال نہیں کرتے۔اس لیے کسی بھی صورت ہماری حالت نہیں بدلتی۔ہمارے یہاں دین کا محدود تصور اس قدر عام ہوگیا ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلانا،جھگی میں رہنے والوں کی تعلیم و تربیت کا خیال کرنا،اپنے آس پاس کے افراد کے مسائل کو جاننا اور سمجھنا دین کا عمل ہی نہیں سمجھا جاتا۔ہماری سائونڈ پروف گاڑیوں اور محلوں تک غریبوں کی آہ بکا نہیں پہنچتی۔ہم اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ اپنے جیسے ہی نہیں اپنے ہم مذہب انسانوں تک کو خاطر میں نہیں لاتے۔دین کے محدو دتصور کی بدولت قرآن کی افادیت صرف مُردوں کو بخشوانے تک محدود کردی گئی ہے ۔سیرت کا مطلب محفل میلاد منعقد کرنا ہے،سنت کے نام پرچند نوافل ہیں۔

جانوروں کے سماج میں بھی اتنی بے حسی نہیں ہے جتنی اس وقت ہم میٹروپولیٹن شہروں میں دیکھتے ہیں۔ایک بندر کو مار دیجیے ،اس علاقے کے تمام بندر آجائیں گے اور آسمان سر پر اٹھالیں گے ،گلی کا ایک کتا بھونکتا ہے تو آس پاس کے سارے کتے اس کی آواز میں آواز ملادیتے ہیں۔غیر تو غیر ہیں ان کا کیا شکوہ کرنا ۔افسوس جب ہوتا ہے جب ہم ایک خدا رسول کا نام لینے والوں میں یہ بے حسی دیکھتے ہیں۔جس دین میں غریبوں ،مسکینوں اور یتیموں کے حقوق بیان کیے گئے ہوں،جس دین میں مساکین کو کھانا نہ کھلانے پر جھنم کی وعیدہو،جس میں رسول خودمکہ و مدینہ کے پسماندہ علاقوں میں جاکر حال احوال دریافت کرتا ہو،جس کے یہاں مستقل اصحاب صفہ قیام کرتے ہوں،اس نبی کی امت کے اصحاب ِنعمت جھگیوں میں جانے کو کسر شان سمجھتے ہیں۔معاف کیجیے ہماری بے حسی نے اور ہمارے ناقص علم نے ہمیں دنیاوی زندگی میں پسماندہ بنادیا ہے ،آخرت کا حال تو اللہ ہی جانے۔اجتماعی نظم زکاۃ کے نہ ہونے کے سبب اربوں روپے سالانہ خرچ ہونے کے باوجود غربت اور غریبوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ابھی تک مساجد کے دروازوں پر لکھا ہوتا تھا کہ یہاں وہابیوں یا غیر عقیدہ لوگوں کا آنا منع ہے ۔آج فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں ایک بارات میں یہ اعلان ہورہا تھا کہ یہ اہل سنت والجماعت کے نوجوان کی بارات ہے اس میں وہابی نہ آئیں ،اگر کوئی آئے گا تو اسے خوار ہوکر نکال دیا جائے گا۔ حکومت ہمیں مسلمان سمجھتی ہے اور ہم آپس میں ایک دوسرے کو مسلمان نہیں سمجھتے۔امت کے اخلاقی حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ ابھی ظلم کی حکومت مزید رہے گی اور مسلمانوں کی مصیبت کا دور طویل ہوگا۔

آخریہ کب تک چلے گا؟یہ امت کب بیدار ہوگی؟ہماری ظلمت شب کی صبح کب آئے گی؟ہندوستانی مسلمان حکومت کی بے توجہی،زعفرانیوں کی سازشوں اوراپنوں کی بے حسی کا شکار ہیں۔مسائل کا ایک انبار ہے اور حل ہونے کا کوئی راستا دکھائی نہیں دیتا۔اگرچے ہر گام پر ایک رہبر ہے،اس کے باوجود کوئی رہنما نہیں ہے۔ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔افرادی قوت بھی ہے،اہل مال بھی ہیں،اہل علم بھی ہیں،ادارے اور انجمنیں بھی ہیں،ہر شخص فکرمند بھی ہے۔بس ضرورت ہے کہ کوئی ایسا میکانزم بنایا جائے کہ ا ن وسائل کا صحیح سے استعمال ہو۔یہ میکانزم عالمی اور ملکی سطح پر نہ سہی اپنے گائوں اور محلوں کی حد تک ہی بنالیا جائے۔دوچار اہل نعمت مل کر کسی غریب محلے اور ان پڑھ محلے کو گود لیں اور اپنی نگرانی میں وہاں تعلیم ،صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔کیوں کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اپنے یہاں سے اخلاص اور امانت دونوں ہی غائب ہیں،اس لیے اپنا پیسہ خود ہی خرچ کریں تو بہتر ہوگا۔

میری اپنی قوم کے لوگوں سے دردمندانہ گزارش ہے کہ خدا کے واسطے جو جہاں ہے اور جو کچھ کرسکتا ہے وہ اپنے آس پاس کرے۔شیشے کے محلوں میں رہنے والے بھی ذرا اپنے آس پاس کی غریب بستی کا ہفتے میں ایک دن دورہ کرلیا کریں اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا اور غریبوں کی ضروریات پوری ہوں گی۔غریبوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنی ضرورت کی حد تک ہی ہاتھ پھیلائیں۔خود کو کسی کام کے لائق بنائیں۔ہمارے غریب بھی ماشاء اللہ ہیں ،سماج کی فضول رسمیں انھیں کے دم سے زندہ ہیں،عرس،میلے اور قوالیاں ان کے طفیل ہیں ،ورنہ کسی مالدار کو کہاں فرصت ہے کہ وہ فضول کی رسموں میں وقت برباد کرے،اس کے پاس اپنے والدین کی خیریت جاننے اور اپنے قریبی اعزہ کے جنازے تک میں جانے کی فرصت نہیں ہے۔

سنا ہے ڈوب گئی ہے بے حسی کے دریا میں
وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN