لکھنؤ :(ایجنسی)
اتر پردیش میں ووٹنگ کے چوتھے مرحلے کے تحت، دوپہر 3 بجے تک 49.89 فیصد ووٹنگ ہوئی، جبکہ ووٹنگ شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔ اترپردیش میں 9اضلاع کی 59 سیٹوں پر دوپہر تین بجے تک 49.89فیصد ووٹنگ ہوئی ۔ باندہ میں 50.08 فیصد ،فتح پور میں 52.60فیصد ، ہردوئی میں 46.29فیصد ، لکھیم پور کھیری میں 52.92 فیصد ، لکھنؤ میں 47.62فیصد ، پیلی بھیت میں 54.83فیصد ، رائے بریلی میں 50.84 فیصد ، سیتا پور میں 50.33فیصد اور اناؤ میں 47.29فیصد ڈالے گئے۔
دوسری جانب لکھنؤ کے موہن لال گنج میں پنچسارا بوتھ سے کانگریس کے ایجنٹوں کو پولیس نے باہر کردیا۔ جس کے بعد بوتھ کے باہر کافی ہنگامہ ہوا۔ دوسری طرف سروجنی نگر کے فرخ آباد چلواں کے دی ماڈل اسکول میں ای وی ایم کی خرابی کی وجہ سے ووٹنگ میں تاخیر ہوئی۔ کئی ووٹر ووٹ ڈالے بغیر واپس چلے گئے۔ تاہم بعد میں عہدیداروں نے ای وی ایم کو تبدیل کردیا۔ جس کے بعد ووٹنگ شروع ہوئی۔
ریاستی الیکشن افسر کے دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق پولنگ پرامن طریقے سے جاری ہے۔ تاہم، سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ، اناؤ، ہردوئی اور سیتا پور میں پولنگ میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے الگ الگ ٹویٹس میںالزام لگایا ہے کہ پیلی بھیت ضلع میں بسال پور اسمبلی کے بوتھ نمبر 283، 284 اور 232 پر پولنگ اہلکار ووٹروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بی جے پی کو ووٹ دیں۔
پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اس کے علاوہ انتظامیہ سیتا پور کی بسواں اسمبلی سیٹ کے بوتھ نمبر 402 پر بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈلوانے میں مدد کر رہی ہے۔ ایس پی نے الزام لگایا کہ اناؤ کی موہن اسمبلی سیٹ کے بوتھ نمبر 191 پر بی جے پی کے حق میں زبردستی ووٹنگ کروائی جا رہی ہے۔
نہیں ہے’ فیملی ‘مگر جانتے ہیں پریوار کا درد، پورا ملک اوریوپی ہمارا پریوار: مودی

بارہ بنکی میں ایک جلسہ عام کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پریوار والے نہیں ہیں، لیکن ہم خاندان کے افراد کے درد کو اچھی طرح جانتے ہیں، کیوں کہ پورا ملک اور یوپی ہمارا خاندان ہے۔ وہیں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ کو امیٹھی میں ایک جلسہ عام کے درمیان الزام لگایا کہ دہشت گرد کا خاندان سماج وادی پارٹی کا پرچارک ہے، جبکہ ایک اور ریلی میں ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے جواب دیا کہ کالے قانون (کاکا) گئے، اس لیے بابا (یوگی) بھی جائیں گے۔
کوشامبی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ کورونا بحران میں آپ نے کچھ موسمی لیڈروں کو دیکھا ہو گا ۔ کورونا آیا تو غائب ہو گئے، کورنا کنٹرول ہوا تو پھر آگئے۔ الیکشن آیا تو پھرآگئے۔ الیکشن ختم توبیرون ملک چلے جائیں گے ۔ جب لوگ مہاماری میں پریشان تھے تو وہ غائب تھے۔ الیکشن آیا تو گھر سے باہر نکل آئے ہیں ۔
ایس پی کا صفایا ہو جائے گا: یوگی

سلطان پور میں ایک جلسہ عام کے دوران، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا – رجحانات بتا رہے ہیں کہ ایس پی کا صفایاہوجائے گا۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کو 19 سیٹیں ملی تھیں، اس بار ان کی سیٹیں آدھی رہ جائیں گی اور کانگریس کو تو اس کے لیڈر ہی ڈبو دیں گے۔ مضبوط حکومت دمدار ہوتی ہے۔ ایک مضبوط حکومت بڑے ترقیاتی منصوبے لاتی ہے۔ غریبوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بھی نافذ کرتی ہے اور مجرموں اور مافیا کو سبق سکھانے کا کام بھی کرتی ہے۔
لکھیم پور متاثرین کا سپریم کورٹ جانا حکومت کے لیے شرمناک: پرینکا

کانگریس کی اتر پردیش کی انچارج وجنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے لکھیم پور کھیری میں گاڑی سے کچلے جانے والے کسانوں کے خاندانوں کا انصاف کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا حکومت کے لیے شرمناک قرار دیا ہے۔ مسز واڈرا نے بدھ کے روز کہا کہ متاثرین کے اہل خانہ کو خود حکومت کو انصاف دینا چاہئے تھا، لیکن حکومت ان کے تئیں غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہی ہے، جس کی وجہ سے انہیں خود انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا ہے۔انہوں نے ٹویٹ کیاکہ کتنی شرم کی بات ہے کہ لکھیم پور کسان قتل عام کے متاثرین کے خاندانوں کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑرہاہے اور انصاف مانگنا پڑتا ہے۔ ذمہ داری حکومت کی تھی، لیکن بی جے پی نے وزیر کے بیٹے کو بچانے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کی۔ کسان بی جے پی حکومت کی اس ناانصافی کوکبھی نہیں بھولیں گے۔
دوسری طرف کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی-بھاشا‘ کو بتایا – بی جے پی اور ایس پی اہم مسائل جیسے بے روزگاری اور مہنگائی سے توجہ ہٹا رہے ہیں، اس کے بجائے وہ دہشت گردی پر بات کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے انتخابات سے قبل ہی آوارہ مویشیوں کے معاملے کا نوٹس لیا، جب کہ لوگ برسوں سے اس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ پرینکا کے مطابق، ’’ترقی صرف بی جے پی کی مہم میں ہوتی ہے، زمین پر دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ بی جے پی اور ایس پی نے اپنے انتخابی منشور میں خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق کانگریس کے کئی اعلانات کی نقل کی ہے۔ کانگریس پارٹی کے برعکس کوئی پارٹی سڑک پر نہیں لڑی، ایس پی اور بی ایس پی انتخابات سے پہلے تک خاموش تھیں۔
کسان تنظیم انتخابات میں ایس پی کی حمایت کرے گی
کسانوں کی تنظیم راشٹریہ کسان منچ نے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ منچ کے قومی صدر شیکھر دیکشت نے بدھ کو ایس پی صدر اکھلیش یادو کو لکھے خط میں کہا کہ ان کی تنظیم نے ایس پی کو مکمل حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے خط میں الزام لگایا کہ ’’اتر پردیش میں اس وقت اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں اور یہ افسوسناک ہے کہ حکمراں بی جے پی کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کرکے سماج میں انتشار پیدا کرنے کی بات کررہی ہے۔‘‘ بی جے پی لوگوں میں مذہبی جنون پیدا کرکے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دیکشت نے الزام لگایا کہ ’بی جے پی ‘ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کی طرح برتاؤ کر رہی ہے اور ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘کی پالیسی پر چل رہی ہے۔









