پٹنہ :(ایجنسی)
بہار کے بی جے پی ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر نے کہا ہے کہ مسلمانوں سے ووٹ کا حق چھین لیا جائے ورنہ ہندوستان اسلامی ملک بن جائے گا۔ ہری بھوشن ٹھاکر نے یہ بات بہار کے اسمبلی کیمپس میں صحافیوں کے اس سوال کے جواب میں کہی کہ اے آئی ایم آئی ایم کے ایک ایم ایل اے نے آبادی کی بنیاد پر مسلمانوں کی بھاگیداری کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم کے اس مطالبے کے پیچھے آئی ایس آئی اور اسلامک اسٹیٹ بنانے کا ایجنڈا ہے۔ ہری بھوشن ٹھاکر نے کہا کہ مسلمان ہندوستان میں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان انسانیت کے دشمن ہیں افغانستان اور پاکستان میں کیا کر رہے ہیں۔ بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ مسلمان اقلیت نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا ایجنڈا پوری دنیا کو اسلامی ریاست بنانا ہے۔
ٹھاکر کے بیان پر بی جے پی نے انہیں نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے اپنے بیان کی وضاحت کرنے کو کہا ہے۔ بہار میں بی جے پی کے ساتھ حکومت چلانے والی جے ڈی یو نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی ایم ایل اے کا یہ بیان اشتعال انگیز ہے۔
ہری بھوشن ٹھاکر پہلے بی جے پی لیڈر نہیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایسی زہریلی بات کی ہو۔ اس سے پہلے بھی کئی رہنما مسلمانوں کے خلاف زہر اگل چکے ہیں اور انہیں پاکستان جانے کا مشورہ بھی دے چکے ہیں۔
کچھ دن پہلے اتر پردیش میں بی جے پی ایم ایل اے اور ہندو یوا واہنی کے ریاستی انچارج راگھویندر سنگھ کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا تھا۔ اس ویڈیو میں راگھویندر نے کہا تھا کہ جو بھی ہندو دوسری طرف جا رہاہے اس کے اندر مسلمانوں کا خون دوڑ رہاہے ۔ ان کا مطلب تھا کہ بی جے پی مخالف پارٹیوں کی حمایت کرنے والے ہندوؤں سے تھا۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا بی جے پی اس ایم ایل اے کو صرف نوٹس دیتی ہے یا اس کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرتی ہے۔










