نئی دہلی :(ایجنسی)
امول نے ملک بھر میں اپنا دودھ 2 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ نئی قیمتیں یکم مارچ 2022 سے لاگو ہوں گی۔ ایک ساتھ اتنے زیادہ دام پہلے نہیں بڑھتے تھے۔ جیساکہ عام طور پر ہوتاہے امول کے بعد ملک کی تمام ریاستوں میں فعال دودھ کمپنیاں بھی اپنا دودھ مہنگا کریں گی،جن میں مدر ڈیری( دہلی)، ویٹا (ہریانہ)، پراگ (یوپی)، ویرکا (پنجاب)، سودھا (بہار) کے علاوہ پارس، آنند ،موہن وغیرہ کمپنیاں بھی اپنا ریٹ کچھ نہ کچھ بڑھاتی ہیں۔
امول کا کہنا ہے کہ اس نے دو سال سے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا، اس لیے اب ریٹ میں چار فیصد کااضافہ کیاگیاہے ۔ نئے ریٹ لاگو ہونے پر امول گولڈ کا آدھا لیٹر پیک 30 روپے ، امول تازہ کا آدھا لیٹرپیک 27 روپے، امول شکتی کا آدھا لیٹر پیک 24 روپے کا ملے گا ۔
امول نے اس اضافے کی وجہ پیکیجنگ، نقل و حمل اور جانوروں کے چارے وغیرہ کی لاگت کو قرار دیا ہے۔ امول نے کہا کہ اس نے کسانوں کے دودھ کی قیمتوں میں بھی 35 روپے سے 40 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے۔ امول نے دعویٰ کیا ہے کہ امول دودھ پیداوار کسانوں کو فی ایک روپے میں سے 80 پیسے لوٹا تا ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ قریب سات مہینےبعد ہوئی ہے ۔ گزشتہ بار امول نے اپنے دودھ کی قیمت جولائی 2021 میں بڑھائی تھی ۔
واضح رہے کہ امول ایک کوآپریٹو ادارہ ہے، جس کا آغاز گجرات سے ہوا تھا۔ امول کسانوں سے دودھ خریدکران کو پیک کرتا ہے اور پھر امول نام سے بیچتا ہے ۔ دسمبر 2021 میں ، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کرشنا ضلع میں بھی امول پروجیکٹ کااعلان کیاتھا۔ اس پروجیکٹ کےتحت ریاستی حکومت نے ڈیری کسانوں سے دودھ اکٹھا کرنے کے لئے امول کےساتھ تعاون کیا، جس کا مقصدریاست میں دکانداروں اوربیچولیوں کے ذریعہ وصولےجانے والی قیمتوں کو کم کرنا ہے ۔
امول کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ کیا اس اچھے دن کا انتظار تھا؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ چونکہ امول دودھ شہروں میں فروخت ہوتا ہے اور پوروانچل کے دیہی علاقوں میں اب انتخابات ہو رہے ہیں اور دودھ کی کوئی کمی نہیں ہے، اسی لیے اس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ امول حکومت سے پوچھے بغیر شرح نہیں بڑھا سکتا۔
کچھ نے مہنگائی میں دودھ مہنگا کرنے کا براہ راست الزام حکومت پر لگایا ہے۔ کچھ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دودھ کے بعد پیٹرول بھی مہنگا ہو جائے گا۔ حکومت کو صرف 10 مارچ کا انتظار ہے۔ اس کے بعد پٹرول بھی کم از کم پانچ روپے مہنگا ہو جائے گا۔










