کشی نگر :(ایجنسی)
اترپردیش انتخابات کے چھٹے مرحلے کے لیے ووٹنگ 3 مارچ کو ہونا ہے، لیکن اس سے پہلے کشی نگر میں ایس پی لیڈر سوامی پرساد موریہ کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا۔ کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ سوامی پرساد موریہ کی بیٹی اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنگھ مترا موریہ نے کہا کہ ان کے والد پر بی جے پی نے حملہ کیا ہے۔
سر سے خون بہہ رہا ہے، لوگوں کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں

سنگھ مترا موریہ نے کہا، حملہ ہوا ہے، یہ پیتا جی نہیں کہہ رہے ہیں۔ سڑک پر نظر آرہا ہے۔ گاڑیاں کس طرح توڑی گئی ہیں۔ لوگوں کے سر سے خون بہہ رہا ہے ۔ لوگوں کے پیر ٹوٹےہیں۔ میرے والد کو چوٹ آئی ہے ۔ وہ بی جے پی جو امن اور فساد سے پاک ریاست کی بات کرتی ہے ۔ آج اسی کے امیدوا ر نے ہمارے والد پر حملہ کیا ۔ آج میں کھلے عام یہاں پر آکر کہتی ہوں کہ فاضل نگر کے عوام 3 مارچ کو ایسے لوگوں کو سبق سکھائیں گے اور سوامی پرساد کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناکر بھیجیں گے۔
جب مجھے کشی نگر میں معلوم ہوا کہ میرے والد پر حملہ ہوا ہے ،بازار میں ہمیں بھی گھیرا گیا۔ جب وہاں پولیس پہنچی تو 5 گاڑیوں کی فورس ہمیں وہاں سے یہاں لے کر آئی ہے۔ وہاں پر بی جے پی کے کارکنان نے ایک خاتون کو گھیرا، جو انہی کی پارٹی کی ہے ۔
فاضل نگر سیٹ پر کشواہا ووٹر کا اثر
ایس پی نے سوامی پرساد موریہ کو کشی نگر کی فاضل نگر اسمبلی سیٹ سے میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی نے سریندر سنگھ کشواہا کو میدان میں اتارا ہے۔ یوپی اسمبلی انتخابات میں فاضل نگر اسمبلی سیٹ پر وقار کا سوال بنا ہوا ہے۔ دونوں امیدواروں کے علاوہ ایس پی لیڈر اور سابق ضلع صدر الیاس انصاری کو بی ایس پی سے ٹکٹ ملا ہے۔
فاضل نگر کی سیٹ پر کشواہا برادری کا اثر ہے۔ سوامی پرساد موریہ اور سریندر کشواہا کے درمیان برادری کے ووٹوں کو اپنے حق میں کرنے کی جنگ ہے ۔ بی ایس پی امیدوار الیاس انصاری نے مسلم ووٹوں کو راغب کرنے کی کشش میں مصروف ہیں ۔










