ہاویری :(ایجنسی)
یوکرین میں ہلاک ہندوستانی طالب علم نوین شیکھرپا کے والد شیکھرپا گیانگودر نے کہا کہ ہندوستان کے طلبہ ایسے ہی بیرون ملک نہیں جاتےہیں۔وہاں جاکر تعلیم حاصل کرنا ان کی مجبوری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ’ پی یو سی میں 97 فیصد نمبر حاصل کرنے کے باوجود ان کابیٹا ریاست میں میڈیکل سیٹ حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیکل سیٹ پانے کے لئے کروڑوں روپے دینے پڑتے ہیں اور طلبا کم پیسے خرچ کرکے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔
یہاں کروڑوں روپے دینے پڑتے ہیں، بیرون ملک تعلیم سستی
نوین میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یوکرین گیا تھا۔ یوکرین میں ایم بی بی ایس کاکورس چھ سال کی مدت کا ہے۔ وہاں کی لاگت ہندوستان کے کسی بھی نجی میڈیکل کالج سے بہت کم ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوستانی طلباء کی بڑی تعداد وہاں جاتی ہے۔ وہاں کم قیمت اور بغیر داخلہ امتحان کے داخلہ جیسی سہولیات کی وجہ سے یہ ہندوستانی طلباء کی پہلی پسند ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یوکرین کے کالجوں کو ورلڈ ہیلتھ کونسل، یورپین کونسل آف میڈیسن، اور یونائیٹڈ کنگڈم کی جنرل میڈیکل کونسل سے بھی منظوری حاصل ہے۔ وہاں کی ڈگری کو حکومت ہند بھی تسلیم کرتی ہے۔
21 سالہ طالب علم نوین شیکھرپا، بنیادی طور سے کرناٹک کا رہنے والا تھا، خار کیف میں روسی حملے میں اپنی جان گنوا دیے۔ کرناٹک اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے کمشنر منوج راجن نے کہا، ’طالب علم، نوین شیکھرپا گیانگودر، جو ہاویری ضلع کے چلگیری کا رہنے والا تھا، گولہ باری میں موت ہوگئی۔
روس کے حملے درمیان یوکرین میں گولی باری میں مارے گئے کرناٹک کے طالب علم کے والد گیانگودر نے منگل کو الزام لگایا کہ یوکرین کے خار کیف میں پھنسے ہندوستانی طلباء سے ہندوستانی سفارت خانے سے کسی نے رابطہ تک نہیں کیا۔ متاثرہ نوین شیکھرپا گیانگودر کے اہل خانہ کے ممبران نے کہاکہ نوین خار کیف میڈیکل کالج میں چوتھے سال کا طالب علم تھا ۔
اس کے چچا اجنا گوڑا نے دعویٰ کیا کہ نوین کرناٹک کے دیگر طلباء کے ساتھ خار کیف میں ایک بنکر میں پھنس گیا تھا۔ وہ صبح کرنسی کی تبدیلی اور کھانے پینے کی اشیاء لینے گیا تھا کہ گولہ باری کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا۔ اس کی موت کی خبر کے بعد چلگیری میں متاثرہ کے گھر پر سوگ پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ اس کے اہل خانہ کو تسلی دینے پہنچ گئے۔
اجنا گوڑا نے کہا کہ اس نے منگل کو ہی اپنے والد سے فون پر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ بنکر میں کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ سانحہ کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے گیانگودر کو فون کیا اور تعزیت پیش کی۔










