اردو
हिन्दी
اکتوبر 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

سشانت معاملے میں فیک ٹوئٹس دکھانے کے لیے23 اپریل کو معافی نامہ جاری کرے آج تک: این بی ایس اے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ انٹرٹینمینٹ, خبریں
A A
0
سشانت معاملے میں فیک ٹوئٹس دکھانے کے لیے23 اپریل کو معافی نامہ جاری کرے آج تک: این بی ایس اے
40
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی:
آج تک چینل کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی(این بی ایس اے)نے ایکٹر سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے میں غلط رپورٹنگ کے لیے ہندی نیوز چینل آج تک کو 23 اپریل کو رات 8 بجے معافی نامہ شائعکرنے کی مانگ کی ہے۔لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، این بی ایس اے نے پچھلے سال 6 اکتوبر کو جاری کیے گئے اپنے آرڈر کو برقرار رکھا ہے جس میں اس نے پایا تھا کہ سشانت سنگھ راجپوت کے کچھ ٹوئٹ کو ان کے آخری لفظ بتاتے ہوئے غلط رپورٹنگ کی تھی اور نشریاتی ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ این بی ایس اے نے آج تک سے 23 اپریل،2021 کو رات کے 8 بجے پورےاسکرین پر بڑے حرفوں میں دھیمی رفتار کی آواز کے ساتھ معافی نامہ شائع کرنے کی گزارش کی ہے۔آج تک نے معافی مانگتے ہوئے کہا،‘سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی سے متعلق واقعات پر رپورٹنگ کرتے ہوئے ہم نے آج تک چینل پر کچھ ٹوئٹس چلائے تھے اور غلط طریقے سے اسکرین شاٹ کو اصلی بتاتے ہوئے انہیں ایکٹر کے آخری ٹوئٹس کے طور پرذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ ایسا کرنے سے ہم نے درستگی کے ساتھ متعلق رپورٹ کو کور کرنے کی خصوصی ہدایات کےحصہ1کی خلاف ورزی کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جانکاری کو ایک سے زیادہ ذرائع سے پہلے اکٹھا کیا جانا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو نیوز ایجنسیوں سے موصولہ رپورٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے اور جہاں ممکن ہو اس کی تصدیق کی جانی چاہیے۔ الزامات کوصحیح شکل میں رپورٹ کیا جانا چاہیے اورحقائق کے صحیح ایڈیشن کی نشریات کوخاطرخواہ اہمیت دیتے ہوئےخامیوں کو جلد سے جلد ٹھیک کیا جانا چاہیے۔
این بی ایس اے نے آج تک چینل پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی لگایا ہے۔آج تک کے خلاف اکتوبر، 2020 کا بنیادی حکم فلمساز نیلیش نولکھا کی جانب سے اپنے وکیل راجیش انعامدار اور شاشوت آنند کے توسط سے درج کرائی گئی شکایت پر جاری ہوا تھا۔اس آرڈر کے مطابق، چینل سے 27 اکتوبر کو معافی نامہ شائع کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ 6 اکتوبر کے آرڈر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آج تک نے سشانت کے نام سے ٹوئٹس دکھانے سے پہلے ضروری احتیاط نہیں برتا۔یہ فیک ٹوئٹس تھے، جنہیں بعد میں چینل نے ڈی لٹ کر دیا تھا۔اس بیچ آج تک نےنظرثانی کے لیےعرضی داخل کرکے آرڈر کاتجزیہ کرنے یا اسے واپس لینے کی مانگ کی اور کہا کہ شکایت گزار نشریات کی جانکاری نہیں دے سکے۔اس نے کہا کہ شکایت گزارنے صرف ایک فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ بوم لائیو ڈاٹ ان کا لنک دیا جس میں آج تک کی مبینہ رپورٹ کا ذکر تھا۔ اس لیے اس نے کہا کہ شکایت نہیں بنتی ہے۔حالانکہ این بی ایس اے نے کہا کہ عرضی میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ تجزیہ کی کارروائی میں نئے حقائق نہیں پیش کیے جا سکتے ہیں۔ آج تک نے ان حقائق کو بنیادی کارر وائی میں شامل نہیں کیا جبکہ اس کے پاس ایسا موقع تھا۔آرڈرمیں کہا گیا،‘یہ دھیان دیا جا سکتا ہے کہ کسی آرڈر کے تجزیہ؍ری کال کی مانگ کرتے وقت اضافی؍نئے حقائق اورحوالے نہیں جمع کیے جا سکتے ہیں۔ ان بنیادوں پر، این بی ایس اےنے عرضی کو خارج کر دیتا ہے اور فیصلہ لیتا ہے کہ براڈکاسٹرکو اس تاریخ اور وقت پر نشریات کے لیےہدایت دی جائےگی جو براڈکاسٹر کومطلع کیا جائےگا اور ہدایت کے مطابق میں لگائے گئے جرما نے کو بھی بھیج دےگا۔’این بی ایس اے نے یہ بھی کہا کہ چینل نے 27 اکتوبر کومعافی نامہ نشر کرنے کے بنیادی فیصلے پر عمل نہیں کیا اور 23 اپریل کو معافی نامہ نشر کرنے کے لیے کہا۔بتا دیں کہ آج تک کے ساتھ زی نیوز، انڈیا ٹی وی، نیوز 24 جیسے چینل بھی این بی ایس اے کے ذریعے صحافت کے معیاروں پر عمل نہ کرنے اور سشانت سنگھ راجپوت پر غیرحساس رپورٹنگ کےقصوروار پائے گئے تھے۔معلوم ہو کہ این بی ایس اے ایک سیلف ریگولیٹری ادارہ ہے جو نیوز انڈسٹری میں نشریاتی ضابطے اور ہدایات کونافذ کرتا ہے۔ اس میں 70 چینلوں کی نمائندگی کرنے والے 27 ممبر شامل ہیں۔ اس وقت سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اےکے سیکری اس کے چیئر مین ہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟
خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

09 اکتوبر
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر
خبریں

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

09 اکتوبر
SIR Fake Details FIR
خبریں

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

08 اکتوبر
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

اکتوبر 8, 2026
ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

اکتوبر 8, 2026

حالیہ خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN