نئی دہلی :(ایجنسی)
پادری نے الزام لگایا کہ 25 فروری کو جیسے ہی وہ اپنے ایک دوست کے گھر سے نکلا تو اسے تین افراد نے گھیر لیا۔ انہوں نے کہا، ’انہوں نے میرے ساتھ بدسلوکی کی، مجھے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور مجھے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔‘ پادری نے بتایا کہ جب انہوں نے ان لوگوں کی مخالفت کی تو تین لوگوں نے اس کی پٹائی کردی۔
دہلی میں ایک پادری نے الزام لگایا کہ 25 فروری کو اسے مبینہ طور پر سڑک کے ڈیوائیڈر سے باندھ کر زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے شبہ میں ایک ہجوم نے مارا پیٹا۔ یہ معاملہ جنوبی دہلی کے فتح پور بیری کا ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
پادری کی شناخت 35 سالہ کیلوم ٹیٹے کے طور پر کی گئی ہے جو جنوبی دہلی کے اسولا ایکسٹینشن کا رہنے والا ہے۔
ایڈیشنل ڈی سی پی (جنوبی) مانڈو ہرش وردھن نے دی کوئنٹ کو بتایا کہ آئی پی سی سیکشن 365 (یرغمال بنانا)، 323 (چوٹ پہنچانا) اور 341 (غلط طریقے سے روکنا) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
پادری نے کہا، ’میں نے 27 فروری کو میدان گڑھی پولیس اسٹیشن میں ایک تحریری شکایت دی تھی۔ میں 2 مارچ کو قومی اقلیتی کمیشن کے پاس بھی گیا اور ان کے ذریعے کمشنر کو ایک خط سونپا۔‘
100 لوگوں کے ہجوم نے مجھے مارنے کی نیت سے پیٹا‘
دہلی پولیس کمشنر کو لکھے اپنے خط میں، پادری نے دعویٰ کیا، ’ایک ساگر تنور کی قیادت میں 100 لوگوں کے ہجوم نے مجھے مارنے کے ارادے سے بے رحمی سے پیٹا۔‘ اس کے بعد، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسے زبردستی ایک کار کے اندر بٹھایا گیا، بتایا گیا کہ اسے پولیس اسٹیشن لے جایا جا رہا ہے اور اس پر جبری تبدیلی کا الزام لگایا گیا ہے۔
لیکن اس کے بجائے پادری کو اسولا کے پیپل چوک لے جایا گیا جہاں اسے مبینہ طور پر ڈیوائیڈر کی ریلنگ سے باندھ دیا گیا۔
پادری نے کہا،’انہوں نے مجھے باندھا، بہت مارا پیٹا اور مجھے دوبارہ جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا، میں نے انہیں رکنے کو کہا لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی، بہت سے لوگ دیکھنے کے لیے وہاں جمع ہوئے لیکن کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ ‘
یہی نہیں، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیٹنے والوں نے وہاں سے آنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ مجھے تھپڑ ماریں۔ انہوں نے میرا بیگ چھین لیا، میرا موبائل فون لے لیا، کچھ کاغذات بھی لے گئے اور بائبل بھی چرا لی۔‘
دہلی کے کمشنر کو لکھے گئے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’تقریباً ایک گھنٹے تک بندھے رہنے کے بعد میں نے اپنے ہاتھ باندھنے کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک کی رسیوں کو توڑ کر خود کو آزاد کرایا۔‘
’میں گھر پہنچا اور اپنے گھر والوں کو اس کے بارے میں مطلع کیا۔ میں 27 فروری کو تھانے گیا اور شکایت درج کرائی، انہوں نے مجھے میڈیکل چیک اپ کے لیے بھی بھیجا اور ایم ایل سی بھی تیار کیا گیا، مجھے کچھ زخم آئے تھے۔‘










