بنگلور:(ایجنسی)
کرناٹک گلبرگہ ضلع کے الند تعلقے کی مشہور و معروف درگاہ حضرت لاڈلے مشائخ انصاری کے احاطہ سے متصل شیولنگ نصب کرنے کے معاملے پر کشیدگی کے درمیان انتظامیہ نے دفعہ144نافذ کر دیا تھا۔حکم امتناعی کے باوجود بی جے پی رہنماؤں نے مذکورہ مقام پر پوجا پاٹ کی، جس سے یہاں پر دونوں فرقوں میں تکرار شروع ہوگئی۔اس دوران پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا جس کےبعد پولیس نے آج صبح پانچ بجے گھروں میں گھس کر تقریباً 60مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
اس ضمن میں مقامی مسلمخواتین نے الزام عائد کیا کہ آج صبح پولیس نے زبردستی مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جس سے یہاں پولیس کے خوف کی وجہ سے دو افراد کی موت ہوگئی۔گرفتاری مہم کے دوران صوفیہ بیگم (41) اور فاروق انصاری (74) وفات پا گئے، آج صبح پانچ بجے جب پولیس گھروں کے دروازے توڑ کر گھروں میں داخل ہونے کی کوشش کررہی تھی اس دوران صوفیہ بیگم کو دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی جبکہ فاروق انصاری کے ساتھ دھکا مکی کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی، اموات کے بعد گائوں میں شدید کشیدگی ہے جبکہ الند پولیس تھانے کے انسپکٹر نے کہاکہ اس تعلق سے ایک بھی شکایت درج نہیں کی گئی ہے یہ بے بنیاد الزامات ہیں جو مقامی پولیس کو بدنام کرنے کےلیے عائد کررہے ہیں۔
مقامی افراد نے مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔کرناٹک پولیس نے ضلع کلبرگی کے الند ٹاؤن میں دو فرقوں میں جھڑپ کے سلسلہ میں 60افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور چہارشنبہ کے دن 150افراد کو پوچھ تاچھ کے لئے تحویل میں لے لیا ہے۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مہا شیوراتری(یکم مارچ) کو کرفیو کے احکام کے باوجود الند میں بڑے پیمانہ پر تشدد برپا ہوا تھا۔ پولیس نے شہر میں امتناعی احکامات میں پانچ مارچ تک توسیع کردی تاکہ نظم وضبط بحال ہو۔ صورتِ حال ہنوزکشیدہ ہے۔ وسیع سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس حالات خراب کرنے والے شرپسندوں کی تلاش میں ہے۔
ہجوم نے مرکزی وزیر مملکت برائے فرٹیلائزر بھگونت کھوبا، مقامی ارکان اسمبلی اور بی جے پی قائدین کی گاڑیوں پر سنگباری کی تھی۔ پتھراؤ میں ضلع کمشنر کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ تشدد اس وقت پھوٹ پڑا جب درگاہ لاڈلے مشائخ کے احاطہ میں واقع راگھو چیتنیہ شیولنگ کا گنگا ابھیشیک ہورہا تھا۔دونوں گروپس میں جھڑپ ہوگئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کئے۔ فرقہ وارانہ لحاظ سے حساس کلبرگی کے الند د شہر کی صورت ِ حال لاڈلے مشائخ کی درگاہ کے احاطہ میں واقع ایشور مندر میں گزشتہ ہفتہ شیولنگ کی بے حرمتی کے واقعہ پر صورتِ حال سنگین ہوگئی۔ ایشور مندر اور درگاہ عرصہ سے ہندو-مسلم اتحاد کی علامت رہے ہیں۔شیوراتری کے موقع پر مندر میں خصوصی پوجا ہوئی تھی۔ اُسی دن لاڈلے مشائخ کی درگاہ میں شب ِ معراج ؐ کا اہتمام ہوا۔
کلبرگی پولیس نے سری رام سینا کے بانی پرمود متالک‘ ہندو کارکن چائتراکونڈاپورا اور سدالنگا سوامی کا کلبرگی ضلع میں داخلہ تین مارچ تک ممنوع کردیا۔ ہندو تنظیموں نے ضلع انتظامیہ کے اس فیصلہ پر تنقید کی ہے۔چائتراکونڈاپورا کو احکامات کی خلاف ورزی اور ضلع میں داخل ہونے کی کوشش پر شاہ آباد پولیس نے حراست میں لے لیا۔
پرمود متالک نے کہا ہے کہ ضلع کمشنر کلبرگی ہندو مخالف موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس کلبرگی یشونت گروکر نے کہا کہ صورت ِ حال قابو میں۔حالات کو قابومیں لاتے ہوئے ڈپٹی کمشنرنے کہاتھا کہ 10 مسلمان صندل کریں اور10 ہندو شیولنگ کی پوجا کریں ۔ اس کے تحت درگاہ میں پولیس بندوبست کے درمیان بھگونت خوبہ کی نمائندگی میں دس سے زائد افراد دگارہ میں شامل ہوئے تھے جس کی وجہ سے یہ معاملہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرچکاہے۔
واضح ہوکہ صوفی لاڈلے مشائخ کے شمالی کرناٹک اور مہاراشٹرمیں لاکھوں معتقدین ہیں لیکن اس دفعہ ہندو مسلم کا کارڈ کھیلتے ہوئے فرقہ وارانہ تشددبرپاکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔البتہ شیموگہ کے معاملے میں جس طرح سے نام نہاد ،خودساختہ کانگریسی لیڈران خاموشی اختیارکئے ہوئے تھے،بالکل اُسی طرح سے گلبرگہ میں بھی کانگریسی خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سےچاروں طرف سے مسلمان ان خود ساختہ لیڈروں کی مذمت کررہے ہیں۔










