اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

احسان جعفری کو یاد رکھنا کیوں ضروری ہے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
احسان جعفری کو یاد رکھنا کیوں ضروری ہے؟
126
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ـ کرسٹوف جیفرولیٹ

ترجمہ:پروفیسر محمد سجاد

اب سے ٹھیک بیس برس قبل احسان جعفری کا قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ گجرات فسادات کی پہلی لہر تھی جس نے صوبے کے کئی شہروں کو تباہ کیا تھا۔ ان میں احسان جعفری کا شہر احمد آباد بھی شامل تھا۔

جعفری نے ملک کی آزادی کی لڑائی بھی لڑی تھی۔ مزدور تحریک سے بھی منسلک رہے تھے، اور ادبی حیثیت کے بھی حامل تھے۔ ان کی پیدائش برہانپور میں ہوئی تھی، اور 1935 میں جب صرف چھ برس کی عمر تھی، وہ احمدآباد آ گئے تھے۔ ابھی آر سی ہائی اسکول کے طالب علم ہی تھے کہ ایک اردو رسالہ شائع کیا اور 1940 کی دہائی میں آزادی کی لڑائی میں شامل ہو گئے تھے۔ مزدور تحریک کے راہ نما کی حیثیت سے 1949 میں جیل میں بند کر دئے گئے تھے، کیوں کہ انہوں نے انقلاب کا نعرہ دیا تھا۔ رہا ہونے کے بعد وہ پروگریسیو ایڈیٹرس یونین کے جنرل سکریٹری منتخب یا مقرر ہو گئے، قانون کی ڈگری بھی حاصل کی اور احمدآباد کی عدالت میں وکالت کرنے لگے۔ سنہ 1969ء کے فسادات میں ان کا مکان نذر آتش کر دیا گیا اور ان کی فیملی ریلیف کیمپ میں منتقل ہو گئی۔ تقریباً اپنے پرانے مکان کے مقام پر ہی نیا مکان بنایا۔ یہ احمدآباد شہر کا صنعتی علاقہ تھا، اور بوہرا ہاؤسنگ ایسوسی ایشن، گلبرگ سوسائٹی بھی قائم کیا۔

جعفری کیلئے 1969 ایک اہم سال تھا۔ فرقہ وارانہ تشدد کے تریاق کے لئے وہ سیکولر سیاست میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے اندرا کی کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور 1972ء میں احمدآباد کانگریس کے صدر مقرر ہوئے۔ سنہ 1977ء میں وہ احمدآباد لوک سبھا حلقے کے ایم پی منتخب ہوئے۔ اندرا کی کانگریس تب خاصی غیر مقبول پارٹی تھی، گجرات کی 26 نشستوں میں صرف 10 پر کانگریس کامیاب ہوئی تھی۔ ان سے قبل اور ان کے بعد کوئی مسلمان اس صوبے سے ایم۔ پی۔ منتخب نہ ہو سکا۔ جعفری بھی دوبارہ کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑے۔ شعروادب اور عوامی سرگرمیوں سے منسلک رہے۔

فروری 2002ء میں انہوں نے راجکوٹ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں نریندر مودی کی مخالفت کی۔ انتخابی مہم کی ایک عوامی تقریر میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ آ ر ایس ایس کے نریندر مودی کو ووٹ نا دیں۔ چند ہفتے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔

گلبرگ سوسائٹی پر جو حملہ ہوا تھا وہ پولیس کے جارحانہ رویے کی مثال ہے۔ سیٹیزن ٹریبونل کی رپورٹ نے یہ اجاگر کیا کہ گودھرا کے بعد ہونے والے حملوں کی سیریز میں گلبرگ سوسائٹی پہلا نشانہ تھی۔ پھر اس نے ایک پیٹرن کا روپ لے لیا۔ یہاں یقینی طور سے احسان جعفری ہی اہم نشانہ تھے۔ اس علاقے میں بے بسوں کے لئے ان کا کمپاؤنڈ ہی محفوظ ترین جگہ سمجھا جا سکتا تھا۔ آخر کار وہ سابق ایم پی جو تھے اور 1985 کے فسادات میں اعلی حکام نے انہیں تحفظ عطا کیا تھا۔ لہذا تناؤ بڑھنے پر آس پاس کے مسلمان ان کے کمپاؤنڈ ہی میں پناہ گزیں ہو گئے۔ ساڑھے سات بجے صبح وہاں لگ بھگ 200 لوگ پناہ لینے آ چکے تھے۔ ساڑھے دس بجے صبح وہاں پولس کمشنر پی۔ سی ۔ پانڈے آئے اور جعفری کو یہ بھروسہ دلایا کہ پولس ان کی حفاظت کرے گی۔ پولس کمشنر کے جانے کے پانچ منٹوں کے اندر ہی ظہیر بیکری اور ایک آٹو رکشہ جلا دیا گیا۔ گلبرگ سوسائٹی پر حملہ شروع ہو گیا۔ چشم دیدوں کے مطابق احسان جعفری اور ان کے ساتھ اخیر تک رہنے والی پارسی عورت لگاتار بیقراری کے ساتھ پولس سے گھنٹوں تک ٹیلیفون پر رابطہ کرتے رہے کہ خون کی پیاسی جنونی بھیڑ (لوگوں کی) حملہ آور تھی، لیکن جعفری کے گھر کے پاس کھڑی تین پولس گاڑیاں وہیں رہ کر بھی خاموش تماش بین بنی رہیں ۔ نو گھنٹوں بعد آر اے ایف والوں نے مداخلت کی۔ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ گلبرگ سوسائٹی کے 69 لوگ مارے جا چکے تھے۔ ان مقتولوں میں احسان جعفری، ان کے تین بھائی اور دو بھتیجے بھی شامل تھے۔ بوہرا کمیونیٹی کے سربراہ سیدنا نے 2002 فسادات کے مظلوموں سے اپنی لاتعلقی اور دوری بنائے رکھی۔ احسان جعفری کے قتل کا ذکر تک کبھی نہیں کیا۔

بیس برسوں بعد ان کی موت کو یاد کیا جانا بہت اہم ہے۔ نہ صرف اس لئے کہ 2002 کے مظالم کی یادیں معدوم کی جا رہی ہیں اور تاریخ کے صفحات میں کھوتی جا رہی ہیں، بلکہ گجراتی سیاست کی جس روایت سے وہ ذاتی طور سے وابستہ تھے، اسے بھی فراموش کیا جا رہا ہے۔ جعفری کانگریس کے اس مخصوص مکتبہ فکر کا حصہ تھے جس کی داغ بیل اندو لال یاگنک نے 1920ء کی دہائی میں ڈالی تھی۔ جعفری اس روایت کے آخری امینوں میں سے تھے۔ یاگنک غریبوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ یہ ترغیب انہیں مہاتما گاندھی سے ملی تھی۔ لیکن یہ لوگ اب تنہا پڑ رہے تھے،کیونکہ گجرات کانگریس پر رفتہ رفتہ ہندو رجعت پسندوں کا غلبہ ہو نے لگا تھا۔ اس میں سردار پٹیل، کے ایم منشی، گلزاری لال نندا اور مرارجی ڈیسائی جیسے لوگ حاوی ہو رہے تھے۔ یاگنک تو 1920 کی دہائی میں ہی کانگریس سے الگ ہو گئے تھے۔ گاندھی جی بھی بے بس تھے اور انہیں روکنے کی کوشش تک نہیں کر سکے تھے۔ لیکن یاگنک اگلے پچاس برسوں تک گجرات میں روشن خیال سیاست کا مرکز بنے رہے۔ 1969ء کی کانگریس کی ٹوٹ کے بعد وہ اندرا کانگریس سے منسلک رہے، جب کہ ڈیسائی اور دیگر لوگ کانگریس (او )کے ساتھ رہے۔ 1957 سے 1971 تک کے الیکشنز میں احمد آباد حلقے سے یاگنک ہی منتخب ہوتے رہے۔ اسی سیٹ سے 1977ء میں جعفری منتخب ہوئے تھے۔

جعفری گجرات کانگریس کے کوئی آخری ترقی پسند راہ نما نہیں تھے۔ جن لوگوں نے گجرات سیاست میں چھتریہ او بی سی، ہریجن، آدیباسی اور مسلمان کے بلاک بنائے تھے وہ لوگ اندولال یاگنک کے ہی معتقدین تھے۔ انہیں میں سے ایک مادھو سنگھ سولنکی 1980 کی دہائی میں گجرات کے وزیر اعلی بنے تھے۔

سنہ 2022ء گجرات میں اسمبلی چناؤ کا سال بھی ہے۔ کیا کانگریس کا یہ مخصوص روشن خیال طبقہ اپنی واپسی درج کرا پائے گا؟ یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN