جبل پور:(ایجنسی)
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور دیگر کو بھوپال میں سابق وزیر اعلیٰ ارجن سنگھ کے مجسمے کے ساتھ -ساتھ 18 جنوری 2013 یا اس کے بعد عوامی استعمال کی جگہوں پر نصب دیگر مجسموں کو ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور دیگر پر 30,000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا اور ہدایت دی کہ اب سے ایسی جگہوں پر مورتیاں نہ لگائی جائیں۔
جسٹس شیل ناگو اور جسٹس پی کے کوراو کی ڈویژن بنچ کے حکم میں کہا گیا ہے، ‘میونسپل کارپوریشن بھوپال اور مدیا علیہ میجر نانکے پٹرول پمپ تیراہے (لنک روڈ نمبر 1، ٹی ٹی نگر، بھوپال) سےمدھیہ پردیش کے سابق زیر اعلیٰ آنجہانی ارجن سنگھ کی مورتی کو چبوترے سمیت فوراًہٹادیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ مستقبل میں سڑکوں اور عوامی اہمیت کی زمین پر کوئی مجسمہ نہ لگایا جائے۔
عدالت نے ملزمان پر30 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ جواب دہندگان میں ریاست کے چیف سکریٹری، محکمہ شہری ترقیات کے پرنسپل سکریٹری، بھوپال کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ شامل ہیں۔
حکم میں کہا گیا ہے کہ اس رقم میں سے 10,000 روپے عرضی گزار کو دیے جائیں، جب کہ بقیہ 20,000 روپے ہائی کورٹ جبل پور کی قانونی خدمات کمیٹی میں جمع کرائے جائیں کیونکہ اس معاملے میں عدالت کا قیمتی وقت غیر ضروری طور پر ضائع کیا گیا ہے۔
عدالت نے پی آئی ایل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے وہی کیا جو ریاست کو کرنا چاہیے تھا۔ مزید، عدالت نے عوامی مفاد کے معاملے کو کم سے کم کرنے اور درخواست گزار کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے پر میونسپل کارپوریشن سمیت مدعا علیہان کی کھنچائی کی۔
ایڈووکیٹ گرشما جین نے میجر نانکے پٹرول پمپ تیراہے (لنک روڈ نمبر 1، ٹی ٹی نگر، بھوپال) میں ارجن سنگھ کے 10 فٹ اونچے مجسمے کی تنصیب کو چیلنج کیا تھا کیونکہ اس کی تنصیب کے بعد علاقے میں ٹریفک میں خلل پڑ رہا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل ستیش ورما نے کہا کہ عدالت نے یہ فیصلہ 3 مارچ کو دیا تھا، لیکن یہ حکم جمعہ کو آن لائن دستیاب کرایا گیا۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق جبل پور کی وکیل گرشما جین نے یہ عرضی 2019 میں دائر کی تھی اور کہا تھا کہ آزادی کے جنگجو چندر شیکھر آزاد کے مجسمے کی جگہ ارجن سنگھ کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جسے ٹریفک میں رکاوٹ کی وجہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش میں کانگریس کی کمل ناتھ حکومت کے دوران بھوپال میونسپل کارپوریشن کے سب انجینئر سوربھ سود نے 20 جنوری 2020 کو عرضی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پٹیشن سستی مقبولیت حاصل کرنے کے خفیہ ایجنڈے کے تحت دائر کی گئی ہے۔
اسی طرح ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ٹریفک) نے کہا تھا کہ مجسمہ کی تنصیب سے ٹریفک میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔
تاہم، بعد میں جب ریاست میں شیوراج سنگھ چوہان کی بی جے پی کی حکومت واپس آئی، 15 جولائی 2021 کو، ایک اور جواب میں، بھوپال سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (جنوبی) نے عدالت کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ جگہ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے، مجسمہ کو تباہ کر دیا گیا، تعمیر سے ٹریفک کی آزادانہ روانی میں رکاوٹ آئے گی۔
ریاستی اداروں کے ان متضاد جوابات کے پیش نظر، عدالت نے کہا،’مختلف اوقات میں مختلف جوابات بتاتے ہیں کہ ریاستی اہلکار قانون کے مطابق کام نہیں کر رہے، بلکہ پوشیدہ مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔‘










