اردو
हिन्दी
جولائی 16, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اسرائیل دشمن نہیں اتحادی:سعودی ولی عہد،کہا:’ بائیڈن کی پروا نہیں‘

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
اسرائیل دشمن نہیں اتحادی:سعودی ولی عہد،کہا:’ بائیڈن کی پروا نہیں‘
119
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

الریاض:(ایجنسی)

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر کو ان کے بارے میں غلط فہمی ہے تو انھیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

ایک امریکی جریدے کے ساتھ انٹرویو میں ولی عہد نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیل کو دشمن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ایک اتحادی کے امکان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سعودی ولی عہد کے امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو دیئے گئے انٹرویو کو سعودی پریس ایجنسی نے بھی شائع کیا ہے۔

اس انٹرویو میں ولی عہد محمد بن سلمان نے اسلام، وہابیت، قرآن، اسرائیل اور امریکہ سمیت بہت سے مسائل پر تفصیل کے ساتھ بات کی۔

اٹلانٹک نے ولی عہد سے پوچھا کہ کیا وہ سعودی عرب کو اس قدر جدید کریں گے کہ اس کی اسلامی شناخت کمزور ہو جائے؟

اس سوال کے جواب میں ولی عہد نے کہا کہ ‘دنیا کے ہر ملک کا قیام مختلف نظریات اور اقدار کی بنیاد پر عمل میں آیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ جمہوریت، آزادی اور آزاد معیشت جیسی اقدار پر قائم ہے۔ لوگ ان اقدار کی بنیاد پر متحد رہتے ہیں۔ لیکن کیا تمام جمہوریتیں اچھی ہیں؟ کیا تمام جمہوریتیں ٹھیک طریقے سے کام کر رہی ہیں؟ یقینی طور پر نہیں۔

‘ہمارا ملک اسلام کی اقدار اور نظریات کی بنیاد پر بنا ہے۔ اس میں قبائلی ثقافت ہے، عرب ثقافت ہے۔ سعودی ثقافت اور عقائد بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ ہماری روح ہے۔ اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو ملک تباہ ہو جائے گا۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کو ترقی اور جدیدیت کے صحیح راستے پر کیسے ڈالا جائے۔ اسی طرح کے سوالات امریکہ کے لیے ہیں کہ جمہوریت، آزاد منڈیوں اور آزادی کو صحیح راستے پر کیسے رکھا جائے۔ یہ سوال اہم ہے کیونکہ وہ غلط راستے پر جا سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس لیے ہم اپنی اقدار سے نہیں بھاگیں گے کیونکہ یہ ہماری روح ہے۔ سعودی عرب میں مقدس مساجد ہیں، انھیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ ان مقدس مساجد کو ہمیشہ قائم رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم سعودی عوام کے لیے، اس خطے کے لیے ملک کو صحیح راستے پر رکھنا چاہتے ہیں۔ امن اور بقائے باہمی کی بنیاد پر ہم چاہتے ہیں کہ باقی دنیا سے چیزوں کو شامل کریں۔‘

اعتدال پسند اسلام کی اصطلاح سے متفق نہیں

دی اٹلانٹک کے صحافی نے ولی عہد محمد بن سلمان پوچھا- ’میرا خیال ہے کہ آپ بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اگر ہم 1983 میں آپ کے عہدے پر کسی سے بات کر رہے ہوتے، اس کے مقابلے میں جس طرح اعتدال پسند اسلام کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہ بالکل مختلف ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں ولی عہد نے کہا کہ ‘میں لبرل یا اعتدال پسند اسلام جیسی اصطلاح استعمال نہیں کرتا کیونکہ اس اصطلاح کے استعمال سے انتہا پسند اور دہشت گرد خوش ہوتے ہیں۔ اعتدال پسند اسلام جیسی اصطلاح کا استعمال ان کے لیے اچھی خبر ہے۔ اگر ہم اعتدال پسند اسلام کہتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک میں اسلام کو تبدیل کیا جا رہا ہے جو درست نہیں ہے۔

’ہم اسلام کی حقیقی تعلیم کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ یہ رسول اللہ کا راستہ ہے اور یہی راستہ چاروں خلفاء نے اختیار کیا۔ یہ ایک آزاد اور پرامن معاشرے کا راستہ ہے۔ عیسائی اور یہودی بھی ان کی حکومت میں رہتے تھے۔ انھوں نے ہمیں تمام ثقافتوں اور مذاہب کا احترام کرنا سکھایا ہے۔ یہ نبی اور چاروں خلفاء کی تعلیم ہے۔ یہ بہترین ہے اور ہم اسی جڑ کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ انتہا پسندوں نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ہمارے مذہب کو اغوا کیا اور تبدیل کر کے رکھ دیا۔‘

ولی عہد نے کہا: ‘وہ کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ اسلام کو ان کے طریقے سے دیکھیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ نہ کوئی ان سے بحث کر رہا ہے اور نہ ہی ان سے سنجیدگی سے لڑ رہا ہے۔ ایسے میں انھیں اپنے انتہا پسندانہ خیالات کو پھیلانے کا موقع مل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے سنی اور شیعہ دونوں گروہ میں انتہائی شدت پسند دہشت گرد تنظیمیں پیدا ہو چکی ہیں۔

انتہا پسندی پر رائے

دی اٹلانٹک نے پوچھا: ’یہاں کے مذہبی گروہ سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں اخوان المسلمون کے زیر اثر انتہا پسندی پروان چڑھی، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ سعودی اثر و رسوخ بھی ہے۔ سعودی قدامت پسندی بھی اہم ہے۔ وہابیت بھی ہے۔ آپ سعودی انتہا پسندی سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟‘

ولی عہد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘اخوان المسلمون نے انتہا پسندی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ دوسری انتہا پسندوں کو اکٹھا کرنے میں پل بن گئے ہیں۔ اسامہ بن لادن اخوان المسلمون کے رکن تھے۔ الظواہری کا تعلق بھی اسی سے تھا۔ دولت اسلامیہ کے رہنما بھی اس سے وابستہ رہے ہیں۔ تو اخوان ہی راستہ ہے۔ اس نے پچھلی دہائیوں میں انتہا پسند گروپوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لیکن یہ صرف اخوان المسلمین کے بارے میں نہیں ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جنھوں نے انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی کی۔ ایسا صرف مسلم دنیا کے ساتھ نہیں ہوا۔ امریکہ کے ساتھ بھی ہوا۔ مثال کے طور پر عراق پر حملے نے انتہا پسندوں کے لیے اپنا نقطہ نظر بیان کرنا آسان بنا دیا۔ یہ درست ہے کہ کچھ انتہا پسند سعودی میں بھی ہیں۔

وہابیت کے بارے میں رائے

ولی عہد نے وہابیت کے بارے میں کہا کہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ محمد بن عبد الوہاب کوئی نبی نہیں تھے۔ وہ ایک عالم تھے اور ویسے ہی عالم تھے جو پہلے سعودی ریاست میں ہوا کرتے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جزیرہ نما عرب میں صرف عبد الوہاب کے طلباء ہی تاریخ لکھنا یا پڑھنا جانتے تھے۔ اور انھوں نے اسے اپنے انداز میں لکھا۔

‘عبد الوہاب کی تحریروں کو انتہا پسند اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر عبد الوہاب، بن باز اور دیگر زندہ ہوتے تو وہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے۔ دولت اسلامیہ سعودی عرب میں کسی زندہ مذہبی شخصیت کی مثال نہیں دیتی۔ لوگ اپنا ایجنڈا ان کے نام پر پورا کرتے ہیں جو اس دنیا میں نہیں ہیں۔

ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب عبد الوہاب نہیں ہے۔ سعودی میں سنی اور شیعہ ہیں اور سنیوں میں بھی چار مکاتب فکر کے لوگ ہیں اور شیعہ کے اندر بھی بہت سے مکاتب فکر کے لوگ ہیں۔ سبھی مذہبی بورڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آج سعودی عرب میں مذہب کو کسی ایک مکتب کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

‘آج ہم صحیح راستے پر ہیں۔ ہم اپنی جڑوں کی طرف واپس جا رہے ہیں، ہم خالص اسلام کی طرف جا رہے ہیں اور یہ سب کے حق میں ہے۔ اگر آپ سنہ 2016 میں انٹرویو لے رہے ہوتے تو کہتے کہ یہ سب گمان اور قیاس آرائیاں ہیں۔ لیکن ہم نے کر لیا ہے۔ اس وقت آپ سعودی عرب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ آپ پچھلے چھ سات سال پہلے کی سعودی ویڈیو دیکھیں۔ ہم نے بہت کچھ کیا ہے اور ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘

(بشکریہ: بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN