لکھنؤ:(آر کے بیورو)
انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ کی جانب سے انٹیگرل یونیورسٹی میں ’بین الاقوامی میڈیسن ڈے‘منعقد ہوا۔ شہر قاضی مولانا خالد رشید فرنگی نے صدارت کی، جس میں حکیم ابن سینا کے کارناموں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
ڈاکٹر احمد سعید نے مقالہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ حکیم ابن سینا کی لمبی عمر گھوڑے کی سوار ی کرتے ہوئے گزری تھی۔ باوجود اس کے اُنہوں نے تحقیقات کا کام نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم ابن سینا ایسی شخصیت کا نام ہے، جن کی تعلیمات اور کتابوںنے یورپ میں نشاط ثانیہ پربہت کہرا اثر ڈالا۔ اس وقت کے بیشتر سائنسدانوں نے اپنی تعلیمات اور فکر کواسی کے ذریعہ اُجاگر کیا اور وہیں سے روح حاصل کی۔ ڈاکٹر احمد سعید نے کہا کہ 12 ہجری سے 15 ہجری تک تقریباً سبھی زبانوں میں ابن سینا کی کتابوں کا ترجمہ ہو گیا تھا۔ یورپ کے لوگوں نے اُن کی کتابوں کو پڑھا اور سمجھا، جس کے بعد سے ہی وہاں کے لوگوں میں سائنس، فلسفہ، ریسرچ اور طب کے شعبے میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ طویل عرصے تک اسلامی حکومت نے بھی ایسے لوگوں کی خدمات لی اور جدید سائنس کو فروغ دیا۔ آج ضرورت ہے کہ ہمارے بچے بھی ریسرچ کریں اور حکیم ابن سینا کی کتابوں سے استفادہ حاصل کریں۔
مہمان خصوصی ڈائریکٹر یونانی سکندر حیات نے کہا کہ ابن سینا کو دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے اور آج بھی یورپ میں بطور حوالہ انکی کتاب استعمال ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کی کتابوں پر تحقیق ہونی چاہیے، ابن سینا کو مغربی بنگال میں نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ انھیں سمجھنے کے لیے ابھی بہت کام کی ضرورت ہے۔ ایمس میں آیوش بھی کھولے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ سکندر حیات نے بتایا کہ پوری دنیا ہمارے ملک سے فائدہ اٹھا سکتی ہے کیونکہ یہاں علاج کمخرچ میں ہو جاتا ہے۔سکندر حیات نے بتایا کہ ہندوستان میں صرف لکھنؤ اور پریاگ راج کے دو کالجوں میں پی جی کورسز شروع کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قرآن میں سائنس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، ضرورت اس بات کی ہے ہم اس پر غور و فکر کریں۔ قرآن میں آیا ہے کہ ‘میں نے انسان کو ایک قطرہ سے پیدا کیا، میں نے انسان کو اچھلتے پانی سے پیدا کیا۔ تحقیق کریں گے تو ہمیں اپنی کتابوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ سیمینار سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ طلباء اور ریسرچ اسکالرز مستفید ہوں۔
مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ حکیم ابن سینا قرآن کے حافظ تھے۔ قرآن میں کل 6666 آیات ہیں، جن میں سے 1383 آیات سائنس پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم ابن سینا کی نظروں سے یہ آیات بھی گزری ہیں۔انہوں نے اسے پڑھا، سمجھا اور اس پر عمل کیا، تبھی وہ ایک بڑے حکیم بنے۔ اُنہوں نے کہا کہ مدارس طلباء بھی حافظ قرآن بنکر سائنس کے میدان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔مولانا خالد رشید نے کہا آج ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوان بھی اپنے بزرگوں کی طرح قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، تبھی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ طلباء کے اندر تحقیقات کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔ اللہ قرآن میں اشارہ کر رہا کہ تحقیق کرو۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ مذہب اور سائنس میں کبھی بھی ٹکراؤ نہیں رہا۔ حکیم ابن سینا نے قرآن کی روشنی میں تحقیق کی اور کامیاب ہوئے۔
انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفمنٹ کے جنرل سیکریٹری محمد خالد نے کہا کہ یہ بات صحیح کہ یونانی طب اس طرح عوام میں مقبول نہیں ہو پائی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری کوشش یہی ہے کہ ڈبلیو ایچ او 6 مارچ کو بین الاقوامی میڈیسن ڈے منانے کا اعلان کرے۔ محمد خالد نے بتایا کہ دنیا کے معروف فلسفی اور حکیم ابن سینا کی مشہور کتاب القانون فی الطب کی پہلی بار اشاعت آج کے ہی دن 6 مارچ 1025ء کو ہوئی تھی۔ یہ وہی کتاب ہے جو یورپ کے میڈیکل کالجز میں سات صدیوں تک درسی کتاب کے طور پر بڑھائی جاتی رہی لیکن اب اس کتاب کے نام کو جان بوجھ کے تبدیل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکیم ابن سینا نے طب، فلسفہ، ریاضی، علم نجوم، دینیات، لسانیات، ادویات وغیرہ پر کتابیں لکھی ہیں، جن میں سے کتاب الشفاء اور القانون فی الطب اس زمانے کی مشہور و معروف کتابیں ہیں۔ لہٰذا ڈبلیو ایچ او سے مطالبہ کی 6 مارچ کو بین الاقوامی میڈیسن ڈے منانے کا اعلان کرے۔اس موقع پر بڑی تعداد میں معززین شہر و طب یونانی کے طلبہ موجود رہے ۔










