نئی دہلی: (ایجنسی)
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر نے ہفتہ کے روز کہا کہ ملک میں میڈیا پر کئی طرح سے حملے کئے جا رہے ہیں اور آزاد صحافت ایک بنیادی حق ہے جس کی آئین نے ضمانت دی ہے لہٰذا صحافیوں کو اس کی حفاظت کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔
آٹی آئی آئی -انڈیا فار ایکسیلنس ایوارڈ پیش کرنے کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس لوکر نے کہاکہ صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور انہیں کام کرنے پر گرفتار کرنے سمیت کئی واقعات کا میڈیا والوں پر حوصلہ شکنی کا اثر پڑا ہے۔ وہ ضرورت سے زیادہ احتیاط سے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
’یہ عام فہم بات ہے کہ پریس پر کئی طرح کے حملے ہوتے ہیں۔ کئی صحافیوں کو اپنے کام کی پاداش میں گرفتار کر کے طویل عرصے تک جیلوں میں رکھا گیا۔ اسی وجہ سے کئی صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جب کچھ صحافیوں کو شائستگی سے اطاعت کرنے پر مجبور کیا گیا ۔‘
جسٹس لوکر نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اس وقت منظر عام پر آئے جب میڈیا اداروں کو اشتہارات نہیں دیے گئے یا اشتہارات کی ادائیگی نہیں کی گئی جس سے چھوٹے اخبارات تباہ ہو گئے۔
ملیالم نیوز چینل میڈیا ون کی بالواسطہ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘اب ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ قومی سلامتی کا حوالہ دے کر ٹی وی چینل کے لائسنس کی تجدید نہیں کی گئی۔ اس معاملے میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
جسٹس لوکر نے کہا،’صحافیوں کو اپنے آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ‘’گودی میڈیا‘ یا کسی حد تک سمجھوتہ کرنے والا میڈیا حاوی نہ ہو سکے۔‘
انہوں نے تحقیقاتی صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور صحافیوں پر زور دیا کہ وہ انسانی مفادات اور خدشات، حکمرانی سے متعلق مسائل اور ملک کو درپیش مختلف چیلنجز پر تحقیقاتی رپورٹس پیش کریں۔
انھوں نے کہا، ’میرا ماننا ہے کہ چند مستثنیات کے ساتھ تحقیقاتی صحافت زوال پذیر ہے۔ کیا ہمارے ملک کو درپیش بہت سے مسائل اور چیلنجز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اور ان میں سے کچھ کے اسباب اور اثرات کا جائزہ لینا ممکن نہیں؟‘
جسٹس لوکر نے نوٹ کیا کہ کووڈ-19کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے 2020 میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے فوراً بعد، ملک نے ’لاکھوں لوگوں‘ کو’پیدل، سائیکلوں یا اوورلوڈ ٹیمپوز اور ٹرکوں میں‘اپنے گھروں کو روانہ ہوتے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مرکز کی طرف سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ اس وقت (لاک ڈاؤن) کوئی بھی سڑک پر نہیں تھا۔ جسٹس لوکر نے پوچھا، ’کیا ہمارے پاس حقائق تھے یا نہیں؟ کیا ہمارے پاس سچائی تھی یا نہیں؟‘
انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت کے ذریعے سماجی اور بڑے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کی رپورٹنگ ’بہتر طرز حکمرانی اور پالیسی میں تبدیلی‘ کا باعث بن سکتی ہے اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔










