اناؤ :(ایجنسی)
حال ہی میں ایودھیا کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی رہائش گاہ کے بورڈ کے رنگ کو لے کر ہر طرف بحث ہوئی۔ ہاؤسنگ بورڈ کا رنگ بدلے جانے کی وجہ سے اس پر سیاست بھی ہوئی۔ بتایا گیا کہ ایودھیا ڈی ایم کی رہائش گاہ کا بورڈ پہلے زعفرانی تھا، جسے بغیر ان کی جانکاری کے ہرا کردیا گیا اور جب ہنگامہ ہوا تو پھر اسے لال کردیاگیا ہے ۔ رنگ بدلنے کے اس واقعہ کو کچھ لوگ اقتدار کی تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سابق آئی اے ایس نے طنز کیا:
پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کچھ ایسے ہی واقعات کا ذکر کرکے اقتدار کی تبدیلی کی آہٹ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سابق آئی اے ایس سوریہ پرتاپ سنگھ نے دو تصویریں شیئر کی ہیں۔ ایک تصویر میں گورنمنٹ نرالا پارک کے گیٹ کی تصویر ہے جسے سرخ اور سبز رنگ سے پینٹ کیا گیا ہے جبکہ دوسری تصویر میں پارک کا ایک جھولا ہے جسے ہرا اور لال رنگوں میں بھی پینٹ کیا گیا ہے۔
تصویر شیئر کرتے ہوئے سوریہ پرتاپ سنگھ نے لکھا کہ ڈی ایم ایودھیا کے بعد ڈی ایم اناؤ کیوں پیچھے؟ ڈی ایم اناؤ نے پارکوں کے گیٹ، جھولوں کو بھی سماج وادی کر دیا۔ کمال ہے، اس ریاست کے نوکر شاہی، لیکن اشارہ واضح ہے۔ سابق آئی اے ایس نے ایک اور ٹویٹ کیا۔ جس میں لکھا گیا تھا کہ ’’وہی افسران جنہوں نے ٹونٹی کو کھولا تھا وہ دروازہ بند کر رہے ہیں اور ہر ایک نل خود لگا رہے ہیں۔ کہیں افسر پینٹر بن گئے ہیں، کہیں پلمبر اور کہیں میکینک۔ یہ اقتدار کی تبدیلی کی آہٹ ہے۔
لوگوں کا ردعمل:
صحافی راج پال نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایودھیا میں ڈی ایم ہاؤس کا بورڈ زعفران سے سرخ ہو گیا، پھر ہنگامہ ہوا، اب اناؤ کے نرالا پارک کے جھولے سبز ہو گئے ہیں۔‘ جیوتی بترا نامی صارف نے لکھا کہ ’جب جہاز ڈوبتا ہے تو سب سے پہلے چوہے بھاگتے ہیں، یہ واقعات اس کہاوت پر پورا اترتے ہیں‘۔
ریکھا نامی صارف نے لکھا کہ ’سمرن کو اس کی زندگی کم از کم 10 تک جینے دیں‘۔ وکاس پردھان نے لکھا کہ ’’مطلب کسی نہ کسی پارٹی کی چاپلوسی ضرور کریں گے، اگر وہ غیرجانبداری سے اپنا کام ذمہ داری سے کریں گے تو شاید یہ سب کرنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا‘‘۔
وشال ساہو نامی صارف نے لکھا کہ ’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکھلیش میں اتنی غنڈہ گردی ہے، پھر آپ ہی بتائیں کہ اگر سماج وادی پارٹی کا کوئی فرد کسی غریب کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے تو کیا یہ قانون اس غریب کو انصاف دے پائے گا؟ جو خود غنڈہ گردی سے ڈرتا ہے۔










