نئی دہلی :(ایجنسی)
اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ابتدائی رجحانات بھی آنے لگے ہیں ۔ پہلے پوسٹل بیلٹ کی کاؤنٹنگ ہوئی اور اس کے بعد ای وی ایم کھولیںگے۔ ووٹوں کی گنتی کیلئے سبھی ریاستوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں، ان میں اترپردیش، اترا کھنڈ ، پنجاب ، منی پور اور گواشامل ہیں ۔
یوپی میں بی جے پی کو مکمل اکثریت، 269 سیٹیں حاصل
یوپی میں اب تک کے رجحانات میں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ بی جے پی فی الحال 269 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے، جبکہ ایس پی اتحاد 124 پر آگے ہے۔ بی ایس پی نے 3، کانگریس نے 2 سیٹوں پر سبقت حاصل کی ہے جبکہ 2 سیٹوں پر دیگر پارٹیاں آگے چل رہی ہیں۔ اتر پردیش میں 403 سیٹوں میں سے 296 سیٹوں کے رجحانات آ گئے ہیں۔ فی الحال بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی اتحاد 207 سیٹوں پر آگے ہے۔ وہیں سماجوادی پارٹی اتحاد 79 سیٹوں پر آگے ہے۔ کانگریس 4 جبکہ بی ایس پی 4 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو اکثریت حاصل
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو رجحانات میں اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ پنجاب کی 117 سیٹوں میں سے عام آدمی پارٹی 88 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔ کانگریس 17 سیٹوں پر آگے ہے، بی جے پی اتحاد 5 اور شرومنی اکالی دل اتحاد 7 سیٹوں پر آگے ہے۔ ابتدائی رجحانات میں کیپٹن امریندر سنگھ اپنی سیٹ پر پیچھے ہو گئے ہیں، جبکہ نوجوت سنگھ سدھو اپنی سیٹ پر آگے چل رہے ہیں۔
پنجاب اسمبلی کی 117 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے شروع ہوئی۔ ریاست میں 66 مقامات پر گنتی کے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ گنتی کے مراکز کی سخت حفاظت کے لیے تین درجاتی حفاظتی حصار بنایا گیا ہے، جس کے لیے سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی 45 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ گنتی کے کام کے لیے ریاست میں تقریباً 7500 ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہر گنتی سنٹر پر میڈیا کی سہولت کے لیے میڈیا سنٹر بنائے گئے ہیں۔
ابتدائی رجحانات میں اتراکھنڈ میں بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل
اتراکھنڈ کی 70 سیٹوں میں سے 68 سیٹوں کے رجحانات سامنے آ گئے ہیں۔ ابتدائی رجحانات میں بی جے پی 41 سیٹوں پر آگے ہے۔ وہیں کانگریس 22 سیٹوں پر آگے ہے۔ جبکہ دیگر جماعتیں 5 سیٹوں پر آگے ہیں۔ ریاست کے 632 امیدواروں میں سے صرف 70 خوش نصیب امیدواروں کے نتائج تقریباً تین گھنٹے بعد سامنے آئیں گے۔ ان میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (پارٹی) کے امیدوار پشکر سنگھ دھامی، ریاستی پارٹی صدر مدن کوشک، اسمبلی اسپیکر پریم چند اگروال کے علاوہ کابینہ کے تمام اراکین، کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت، ریاستی صدر گنیش گوڈیال اور دیگر شامل ہیں۔ سابق وزراء اور عہدے کے حامل وزراء بھی اپنی قسمت کا فیصلہ سننے کے لیے بے چین ہیں۔ پہلی بار، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے بھی تمام 70 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، جس میں اس کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار رٹائرڈ کرنل اجے کوٹھیال اور دیگر کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو گا۔ ان کے علاوہ کانگریس اور بی جے پی کے باغی اور آزاد امیدواروں کی پوزیشن بھی صاف ہو جائے گی۔
گوا میں کانگریس اور بی جے پی میں مقابلہ جاری، منی پور میں بی جے پی آگے
گوا میں کانگریس اتحاد کو 18، بی جے پی اتحاد کو 13، عام آدمی پارٹی کو 2 اور ٹی ایم سی کو 3 سیٹوں پر برتری حاصل ہوئی ہے جبکہ 4 سیٹوں پر دیگر پارٹیاں آگے ہیں۔ وہیں منی پور میں کانگریس اتحاد کو 5، بی جے پی اتحاد کو 22، این پی پی کو 6، این پی ایف کو 5 سیٹوں پر برتری حاصل ہوئی ہے جبکہ 6 سیٹوں پر دیگر جماعتیں آگے ہیں۔
گوا قانون ساز اسمبلی کی 40 نشستوں کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے 301 امیدوار میدان میں ہیں۔ ریاست میں صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ تمام پولنگ اسٹیشنز پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سی سی ٹی وی کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے۔ منی پور قانون ساز اسمبلی کی 60 سیٹوں کے لیے ووٹوں کی گنتی آج صبح 8 بجے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان شروع ہوئی۔










