نئی دہلی :(ایجنسی)
اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے لیڈر فرحان احمد نے سماج وادی پارٹی اور اس کے سربراہ اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایس پی کی مسلم محبت محض ایک دھوکہ ہے۔ پارٹی نے بی جے پی کو ہرانے کے نام پر ایک سازش کے تحت مسلمانوں کے ووٹ لئے، جب کہ یادووں نے مسلمانوں کو ووٹ نہیں کیا۔
فرحان نے اکھلیش پرالزام لگاتے ہوئے انہیں بھسماسور بتایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھسماسور ہے، جس کے ساتھ جاتے ہیں، وہ پارٹی ختم ہوجاتی ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے کانگریس کا پتہ صاف کر دیا۔ اب مسلمان انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ سوچ کر ووٹ دیا تھا کہ وہ بی جے پی کو شکست دیں گے، لیکن اب حقیقت سب کے سامنے ہے۔ ان کی سات نسلیں بی جے پی کو ختم نہیں کر سکیں گی۔ ایس پی کو مسلمانوں نے آخری موقع دیا تھا۔
فرحان احمد نے کہا،’’اکھلیش یادو اور ان کی آنے والی سات نسلیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ختم نہیں کر پائیں گی۔ انہوں نے کانگریس سے اتحاد ختم کر دیا۔ بی ایس پی کے ساتھ بی ایس پی کا اتحاد ختم ہوگیا۔ پھر راج بھر جی (اوم پرکاش راج بھر) اور سوامی پرساد موریہ اور بی ایس پی کے سبھی لوگ ٹوٹتے ہوئے آئے،جن کے سر پر ہاتھ رکھا سب ختم ہوگئے۔ اکھلیش یادو یوپی میں بھسماسور کے کردار میں ہیں۔ وہ اتر پردیش کا بھسماسورا ہے۔ آپ اسے بھیاسور عرف بھسماسورا کہہ سکتے ہیں۔‘‘
فرحان احمد نے یہ بھی کہا، ’’مسلم سماج کو پتہ چل گیا ہے کہ اکھلیش یادومیں حیثیت نہیںہے وہ آنے والے وقت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہٹا سکے ۔اس لئے جب ہمیں اپنا ہی ووٹ دینا ہے تو کیوں نہ ہم اپنے بینر تلے ووٹ دیں۔ اپنی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کو دے۔ کیوں نہ اپنے بھائی اسدالدین اویسی کو مضبوط کریں ۔‘
فرحان احمد نے مزید کہا، ’یہ اچھی بات ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کا ایس پی کے ساتھ اتحاد نہیں ہے۔ ورنہ ہم بھی بھسم ہو چکے ہوتے۔ ہم پارلیمنٹ اور میئر کا الیکشن نہیں لڑسکتے۔ اکھلیش یادو جس پارٹی پر ہاتھ ڈالتے ہیں وہ ختم ہو جاتی ہے۔ ان کے پاس آخری آپشن یہ ہے کہ وہ اب خود پر ہاتھ رکھے اور ختم ہوجائیں، تاکہ بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان سیدھی لڑائی ہو۔
فرحان احمد نے یہ بھی کہا، ’اتر پردیش کے تمام یادووں نے مسلمانوں کو ووٹ نہیں دیا، صرف ان سے ووٹ لیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال پھول پور مصطفیٰ صدیقی نے الیکشن لڑا اور وہ ہار گئے کیونکہ یادو نے ووٹ نہیں دیا۔ 40 ایسی سیٹیں ہیں جہاں یادو نے مسلمانوں کو ووٹ نہیں دیا۔ وہ مسلمانوں کو اپنا ووٹ نہیں دیتے، وہ صرف ان سے ووٹ لینا چاہتے ہیں۔
فرحان نے کہا، ’اسی وقت مسلم کمیونٹی سوچ رہی تھی کہ وہ اکھلیش یادو کی رتھ یاترا میں شامل ہے، لیکن 10 مارچ کو جب نتائج آئے تو پتہ چلا کہ یہ رتھ یاترا نہیں، سماج وادی پارٹی کی شو یاترا تھی ۔ اب کوئی بھی مسلم ایس پی کو ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔‘
اعظم خاں کو اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے فرحان نے کہا، ’صرف اعظم خاں جیل میں رہیں، ان کی اہلیہ جیل میں رہیں اور خاندان تباہی کے دہانے پر۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں کوان کی بوٹی – بوٹی کردیں۔ یہی چاہتے ہیں ایس پی یا اکھلیش یادو۔ اگر وہ واقعی مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں تو اعظم خاں کو اپوزیشن لیڈر بنائیں،مگر نہیں تو انہیں توشیو پال یادو کو بنانا ہے۔










