دہلی: (پریس ریلیز)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے ایک پریس بیان میں کہا کہ حجاب پر ہائی کورٹ کا فیصلہ تفریق و امتیاز پر مبنی ہے۔ یہ مسلم طالبات کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے منصوبوں کو شدید طور پر متاثر کرے گا۔ پارٹی نے سپریم کورٹ آف انڈیاسے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس فیصلہ پر اسٹے لگائے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے آرڈر میں کہا کہ حجاب اسلام کا لازمی جز نہیں ہے۔ کیا اب یہ کورٹ طے کرے گا کہ کسی مذہب میں کونسی چیز لازمی ہے یا نہیں ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو دستور ہند کے بنیادی حقوق کی دفعہ25(مذہبی آزادی) صرف الفاظ کا پلندہ بن کر رہ جائے گی۔ جہاں تک حجاب کا تعلق ہے یہ اسلام کا لازمی جز ہے جس کا قرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا ہے۔
انہوں نے آگے کہا اسکولوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ طلبا و طالبات کے یونیفارم طے کریں تاہم متعدد اسکولوں نے مسلم بچیوں کو یونیفارم کے ساتھ سر پر اسکارف کی بھی اجازت دے رکھی ہے، اسی طرح جس طرح ایک سکھ طالب علم کو پگڑی باندھنے اور ہندو طلبا و طالبات کو تلک و بندی لگانے پر بھی کبھی کو ئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
انہوں نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ ہائی کورٹ کے اس آرڈر کو فوری طور پر اسٹے کر دے۔ اس لئے کہ یہ فیصلہ نہ صرف کہ دستور ہند میں دئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے بلکہ اس سے مسلم طالبات کے ساتھ امتیاز بھی بر تا جائے گا اور انہیں حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کر نے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کر ناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم کی بھی غلط تعبیر کی گئی تھی ۔ نہ صرف مسلم طالبات کو ان کالجوں میں بھی جہاں کو ئی یونیفارم طے نہیں تھا اور مسلم ٹیچرس کو بھی حجاب کے ساتھ داخل نہیں ہو نے دیا گیا۔ اسی طرح کالجوں کے باہر سڑکوں پر بھی انہیں ستایا گیا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ کور ٹ یو نیفارم کو یکسانیت کے لئے ضروری قرار دے رہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے کثرت میں وحدت اور سیکولرزم کا سبق دیتے ہیں۔










