دادری: (ایجنسی)
ہندو مذہبی رہنما یتی نرسمہانند نے ہری دوار میں اسٹیج پر تقریر کرنے اور مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اپیل کرنے سے چند ماہ قبل، انہیں ایک مقبول میوزک ویڈیو میں دکھایا گیا تھا جس میں وہ کچھ ایسا ہی ’پیغام‘ دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں ان کا ’پیغام‘ اترپردیش کے راجپوت ہندوتوا پاپ سنگر اوپیندر رانا کے آٹو ٹیون کے ذریعہ گائے گئے گانے کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا گیاتھا ۔
مغربی یوپی کے ڈاسنا شہر، جہاں یہ اونچی پہنچ والے پجاری رہتے ہیں ، سے 15 کلو میٹر کی دوری پر دادری بلاک میں واقع رسول پور گاؤں میں بنے اپنے گھر پر دی پرنت سے بات کرتے ہوئے رانا نے بتایا کہ یہ ویڈیو ، جسے یوٹیوب پر 1.5لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکاہے ، نرسنگھا نند کی رضامند کے بعد ہی بنایا گیا تھا ۔

رانا، جو پہلے لوک گلوکار تھے، نے کہا، ‘میں ان سے ان کے مندر میں ملا تھا۔ وہ میرے لیے ایک سرپرست کی طرح ہے۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں اس پر ایک ویڈیو بنانا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھے 2,100 روپے اپنے آشیرواد کے طور پر دیئے۔
سیاہ پتلون کے ساتھ ایک سادہ سفید قمیض میں ملبوس، ادھیڑ عمر اور قدرے داڑھی مونچھ رکھے ہوئے رانا اس ویڈیو میں کسی دوستانہ بینک کلرک کی ہی طرح نظر آتے ہیں ۔ بشرطیکہ آپ ان کے ذریعہ کبھی کبھی لہرائے جا رہے تلوار اور بندوق اورخون کے پیاسے بولوں ، دھرم کی خاطر آگے بڑھ کے اب ہتھیار اٹھاؤ ( جنہیں وہ پرجوش راگ کے ساتھ گاتے ہیں) کو نظر انداز کردیں۔
‘نرسنگھا نند ’جگاوے‘ کے عنوان سے یہ گانا غازی آباد (یو پی) کے ڈاسنا دیوی مندر میں فلمایا گیا تھا، جہاں مہنت خود یتی نرسنگھانند ہیں۔ اس میں نارنجی لباس میں ملبوس سادھو کو دکھایا گیا ہے کیونکہ وہ زیادہ تر پس منظر میں بیٹھا ہوتا ہے، رانا ہندو مذہب کے واحد محافظ کے طور پر اس کی تعریف کرتے ہیں۔










