بنگلور :(ایجنسی)
کرناٹک حکومت نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی سمیت تین ججوں کو Y زمرہ کی سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے حال ہی میں ریاست میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا تھا۔ ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ چیف جسٹس ریتو راج اوستھی اور دیگر ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی کے بعد لیا ہے۔
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے ایک بیان میں کہا، ’ہم نے حجاب پر فیصلہ سنانے والے تین ججوں کو Y زمرہ کی سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے ڈی جی اور آئی جی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں درج شکایت کی مکمل تحقیقات کریں جس میں کچھ لوگوں نے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔
ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی، 2 لوگ گرفتار
کرناٹک ہائی کورٹ کی ایک خصوصی بنچ کے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جنہوں نے کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواستوں کو خارج کر دیا تھا۔
کووئی رحمت اللہ کو ترونیل ویلی سے گرفتار کیا گیا، جبکہ ایس جمال محمد عثمانی کو تنجور سے حراست میں لیا گیا۔ دونوں کو ہفتے کی رات گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان تمل ناڈو توحید جماعت (TNTJ) کے عہدیدار ہیں۔ یہ گرفتاریاں کرناٹک اور تمل ناڈو میں ملزمان کے خلاف کئی شکایات کے بعد کی گئیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں کئی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیے گئے ہیں۔گزشتہ ہفتے کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین کی خصوصی بنچ نے کلاس رومز میں حجاب کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔
تمل ناڈو میں کئی تنظیمیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ملزم کووئی رحمت اللہ کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں وہ مبینہ طور پر کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنی تقریر میں ملزم نے جھارکھنڈ کے ایک ڈسٹرکٹ جج (جنہیں ایک ٹیمپو نے ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ جانتے ہیں کہ کرناٹک کے چیف جسٹس صبح کی سیر کے لیے کہاں جاتے ہیں۔










