لکھنؤ :(ایجنسی)
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج منوج کمار شکلا کی تصویر شیئر کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ کے لاء اینڈ آرڈر پر سوال اٹھائے ہیں۔ یوگی حکومت پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ جے سی بی نہیں بلکہ انصاف چاہتے ہیں۔
دراصل، میڈیا رپورٹس کے مطابق، سلطان پور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج منوج شکلا نے بستی کے ہرایا میں اپنی زمین پر جبری کھدائی سے ناراض ہو کر کھیت پر ہی لیٹ گئے تھے ۔ انہوںنے محکمہ آبپاشی پر الزام لگایا ہے کہ ان کے کھیت سے خلاف ضابطہ مٹی نکالی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کھیت میں مٹی واپس نہیں ڈالی جاتی وہ کھیت میں ہی لیٹے رہیں گے۔
اس معاملے پر اپنے سوشل میڈیا ہینڈل کے ذریعے اکھلیش یادو نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ یوپی میں ہو رہی ناانصافی کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج شری منوج کمار شکلا کے معاملے پر فوری کارروائی کی جائے۔ جب عدالت سے وابستہ افراد کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو عام لوگوں کا کیا حال ہو گا۔ یہ امن و امان کی خراب صورتحال کی بدترین مثال ہے۔ لوگ جے سی بی نہیں بلکہ انصاف چاہتے ہیں۔
صارفین کا ردعمل:
دلیپ ورما لکھتے ہیں کہ جب انصاف جے سی بی سے ہی ملے گا تو اسی کو کام لینا پڑے گا۔ پون نے اکھلیش پر طنز کرتےہوئے لکھاکہ آپ کے دور حکومت میں اس سے بھی بری حالت تھی جناب۔ سنتوش کمار نام کے یوزر نے تبصرہ کیا :’ یہ سرکار آپ کے جیسی نہیں ہے ۔ ان کے قصور واروں کے گھر پر بھی بلڈوزر چلایا جائے گا۔‘ منوج اگروال نام کے یوز ر نے لکھا کہ بری طرح سے انخاب ہار جانے کے بعد ہی اکھلیش یادو نا جانے کون سی سیاست کررہے ہیں ۔
احسان خان نامی صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آئین اور قانون کو بچانے کی جنگ لڑنی تھی تو آپ عالیشان گھر کے اے سی میں بیٹھ کر اپنا فرض ادا کر رہے تھے اور الیکشن ہارنے کے بعد دوبارہ وہی کام شروع کر رہے ہیں۔ آپ اپوزیشن کا کردار ادا کرنا بھی نہیں جانتے۔ نرمل سنگھ نے لکھا- اگر آپ کسی کے لیے انصاف مانگنا چاہتے ہیں تو اس کے پاس جائیں۔ یہاں حکومت سوشل میڈیا پر کان دھرنے والی نہیں۔










