نئی دہلی :(ایجنسی)
سپریم کورٹ نے شادی شدہ جوڑے کی طلاق سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جو بیٹی اپنے باپ سے رشتہ نہیں رکھنا چاہتی، اس بیٹی کا باپ کی جائیداد میں کوئی حق نہیں ہوگا۔ دراصل سپریم کورٹ کے جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ طلاق معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ جس میں سپریم کورٹ نے میاں بیوی اور باپ بیٹی کے تعلقات میں مصالحت کی کوشش کی لیکن بات نہ بننے پر یہ فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے طلاق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جو بیٹی اپنے باپ سے رشتہ نہیں رکھنا چاہتی، اسے اپنے باپ کی جائیداد و دولت پر کوئی حق نہیں ملے گا ۔ اس کے ساتھ ہی بیٹی اپنی تعلیم اور شادی کے لئے بھی باپ سے کسی طرح کی مدد کی مانگ نہیں کرسکتی۔
شوہر نے اپنے ازدواجی حقوق کو لے کر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جسے ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا۔ جس کے بعد شوہر نے سپریم کورٹ میں طلاق کی اپیل کی جس میں سپریم کورٹ کی بنچ نے میاں بیوی اور باپ بیٹی کے تعلقات میں صلح کرانے کی کوشش کی۔ جس میں دونوں فریقوں نے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس پورے معاملے میں بیٹی پیدائش سے ہی اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہے اور اب اس کی عمر 20 سال ہے۔ اس عمر میں اس نے اپنے والد سے ملنے سے بھی انکار کر دیا۔
– جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بیٹی بالغ ہے اور اس کی عمر 20 سال ہے اور وہ اپنا فیصلہ لینے کے لئے آزاد ہے۔ اگر بیٹی باپ سے رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تو وہ باپ کی جائیداد اور دولت کی حقدار نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کی بنچ نے شوہر کو حکم دیا کہ وہ بیوی کو ماہانہ 8000 روپے یا 10 لاکھ روپے یکمشت گزرا بھتہ ادا کرے۔
2005 میں، ہندو جانشینی ایکٹ 1956 کو تبدیل کرکے، بیٹیوں کو باپ کی جائیداد میں مساوی حقوق دیے گئےتھے، لیکن قانون کے مطابق اگر بیٹی کا اپنے باپ سے رشتہ نہیں رکھتی ہے تو اس کو جائیداد میں کوئی حق نہیں ملے گا۔ وہیں باپ اپنی بیٹی سے رشتہ نہیں توڑ سکتا اور اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔










