بھوپال :(ایجنسی)
دی کشمیر فائلز بنا کر سرخیوں میں آئے وویک اگنی ہوتری نے اب’ جینوسائڈ میوزیم‘ بنانے کی پہل کی ہے۔ انہوں نے 25 مارچ کو مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے سامنے اس بارے میںاپیل کی۔ جواب میں چوہان نے کہا- آپ کام شروع کریں، مدھیہ پردیش حکومت آپ کے ساتھ ہے۔ زمین سے تمام ضروری مدد فراہم کی جائے گی۔ اس میوزیم کی ضرورت بتاتے ہوئے اگنی ہوتری نے کہا کہ اس سے دنیا غیر انسانیت کادرد سمجھ سکے گی۔ چوہان نے کہا- ماما آپ کے ساتھ ہیں۔
وویک اگنی ہوتری نے جب اپنا مدھیہ پردیش کنکشن بتایا تو شیوراج نے کشمیریوں کو جگر کا ٹکڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر سماج کے لوگ دودھ میں چینی کی طرح گھل جاتے ہیں۔
بتادیں کہ وویک اگنی ہوتری کی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ میں کشمیری پنڈتوں کے درد اور ان کے پلائن کی کہانی دکھائی گئی ہے۔ اس پر بھی کافی سیاست چل رہی ہے۔ بی جے پی لیڈر اور بی جے پی کی حکومت والی حکومتیں فلم کو کشمیر کی حقیقت بتا کر اس کی بھرپور تشہیر کر رہی ہیں۔ کانگریس اسے سچی کہانی کے نام پر بڑھا چڑھا کر بتائی گئی کہنانی بتا رہی ہے ۔
پروپیگنڈے اور سیاسی تنازعات کے درمیان فلم کو ٹیکس فری بنانے پر بھی ہنگامہ برپا ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی تقریباً تمام ریاستوں نے اس فلم کو ٹیکس فری کر دیا ہے۔ جس میں اترپردیش، مدھیہ پردیش، ہریانہ جیسی تقریباً 8 ریاستیں شامل ہیں۔ دوسری جانب دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے دی کشمیر فائلز کو جھوٹی فلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پورے ملک میں گھوم رہی ہے اور اس فلم کے پوسٹر لگا رہی ہے۔










