نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی فسادات سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کا تبصرہ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کو پسند نہیں آیا۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کی رپورٹ سے متعلق ایک خبر کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا –:’تیرا مسکراناغضب ہو گیا۔ وہ نازک لبوں سے محبت کی باتیں، ہم ہی کو سننا غضب ہو گیا۔ اپنے اس لائن کے آگے انہوں نے بریکٹ میں لکھا ( گولی مارو…)
دراصل اویسی عدالت کے اس ریمارکس پر طنز کر رہے تھے جس میں دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس چندر دھاری سنگھ نے ریمارکس دیے تھے کہ اگر کوئی بات مسکراتے ہوئے کہی جائے تو اس کے پیچھے مجرمانہ جذبہ نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی بات تلخ لہجے میں کہی جائے تو اس کے پیچھے کا ارادہ مجرمانہ ہو سکتا ہے ۔ کورٹ سی پی آئی (ایم ) لیڈر برندا کرت کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں کمیونسٹ لیڈر نے مودی حکومت میں ایک وزیر انوراگ ٹھاکر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی تھی۔
جسٹس چندر دھاری سنگھ نے بھی اپنے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کے وقت دی گئی تقریر کو عام وقت میں کہی جانے والی تقریر سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ انتخابات کے دوران اگر کچھ کہا جاتا ہے تو وہ ماحول پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن عام اوقات میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس دوران یہ مانا جا سکتا ہے کہ قابل اعتراض ریمارکس ماحول کو بھڑکانے کے لیے کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ سی اے اے کے مظاہرے کے دوران انوراگ ٹھاکر نے ایک خاص برادری کے خلاف قابل اعتراض گولی مارو… کا تبصرہ کیا تھا ۔ برندا کرت نے کہا کہ مرکزی وزیر کا بیان لوگوں کو ایک برادری اور خاص کے خلاف تشدد پر اکسانا تھا۔ عدالت اس معاملے میں ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کرے۔
سوشل میڈیا پر لوگوں نے اویسی کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک کا کہنا تھا کہ جو لیڈر جس سماج کا ہے وہ اسی کو ٹھگ رہاہے ،آپ بھی انہی میں سے ایک ہو۔ ایک اور یوزر نے لکھا کہ آپ نے یہ کیسے کر دیا؟ چلو ابھی شاید آپ اور آپ کے بھائی بچ جائیں گے ۔










