نئی دہلی :(ایجنسی)
پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان عام لوگوں کو ایک اور جھٹکا لگنے والا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ ماہ سے کئی ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ درحقیقت ڈرگ پرائسنگ اتھارٹی آف انڈیا نے شیڈول ادویات کی قیمتوں میں 10.7 فیصد اضافے کی اجازت دی ہے، جس کے بعد اب پیراسیٹامول سمیت 800 سے زائد ادویات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
NPPA نےےہول سیل پرائس میں کی تبدیلی
نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی آف انڈیا (NPPA) نے جمعہ کو کیلنڈر ایئر 2021 ہول سیل پرائس انڈیکس ( WPI) میں 2020 کی اس مدت کے مقابلے میں 10.7فیصد بدلاؤ کااعلان کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام بیماریوں کے علاج میں استعمال کی جانے والی ضروری ادویات کی قیمتوں میں 1 اپریل سے 10.7فیصد اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس لسٹ میں تقریباً 800 ادویات ہیں ۔
این پی پی اے نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ، ‘معاشی مشیر کے دفتر، کامرس اور صنعت کی طرف سے فراہم کردہ ڈبلیو پی آئی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، کیلنڈر سال 2021 کے دوران ڈبلیو پی آئی میں سالانہ تبدیلی اسی مدت کے مقابلے میں 10.76607 فیصد کے طور پر کام کرتا ہے ۔
ان ادویات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں
اگر نئی قیمتیں آتی ہیں تو یکم اپریل سے بخار، انفیکشن، امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر، جلد کے امراض اور خون کی کمی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ Paracetamol، Phenobarbitone، Phenytoin Sodium، Azithromycin، Ciprofloxacin Hydrochloride اور Metronidazole جیسی ادویات شامل ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مہنگائی کی زد میں وہ دوائیں بھی آئیں گی جونیشنل انسینشیل لسٹ آف میڈیسن ( این ای ایل ایم ) میںشامل ہیں ۔ اس لسٹ میں اینٹی بایوٹک، سوزش کی دوائیں، کان، ناک اور گلے کی دوائیں، جراثیم کش ادویات، درد کش ادویات، معدے کی دوائیں اور اینٹی فنگل ادویات شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر 2013 کی شق 16 این پی پی اے کو ہر سال یکم اپریل کو یا اس سے پہلے پچھلے کیلنڈر سال کے لیے سالانہ ہول سیل پرائسانڈیکس (WPI) کے مطابق طے شدہ فارمولیشن کی زیادہ سے زیادہ قیمت پر نظر ثانی کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس بنیاد پر نئی قیمتیں ہر سال یکم اپریل سے لاگو ہوتی ہیں۔










