نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی کی ایک مقامی عدالت نے متنازع ’سلی ڈیلز‘ ایپ کے خالق اومکاریشور ٹھاکر اور ’بلی بائی‘ کیس کے ملزم نیرج بشنوئی کو ضمانت دے دی ہے۔ اس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے ضمانت دینے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے نام پہلی بار جرائم کی فہرست میں آئے۔ اگر انہیں مسلسل جیل میں رکھا گیا تو انہیں سدھرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ملزمان نے جن خواتین کو نشانہ بنایا ان میں کئی معروف صحافی بھی شامل ہیں۔ اسی طرح دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں کو بھی ملزمان نے نشانہ بنایا۔ تاہم، دہلی کے ڈپٹی کمشنر پولیس کے پی ایس ملہوترا نے کہا کہ ملزمان کو ضمانت دینے کی پہلی وجہ یہ تھی کہ ملزمان کے فورنسک سائنس لیباریٹری (ایف ایس ایل) کے نتائج آنا باقی ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان کے خلاف شواہد پر انحصار کیا تھا اور تفتیش میں کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
ضمانت کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ ملزم پر سخت پابندیاں عائد کر رہی ہے کہ وہ شواہد سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور نہ ہی گواہوں کو دھمکیاں دیں، ملزمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کیس میں کسی گواہ سے رجوع نہ کریں اور نہ ہی اس پر اثر انداز ہوں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنے موبائل فون کو ہر وقت آن رکھیں اور تفتیشی افسر (IO) کے پوچھنے پر اپنی موجودہ جگہ بتائیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ عدالت جب بھی پیش ہونے کا حکم دے گی اسے پیش ہونا پڑے گا۔
دہلی پولیس نے اس سال 6 جنوری کو آسام سے بلی بائی ایپ بنانے والے بشنوئی کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔ ایپ پر سیکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر کا غلط استعمال کیا گیا۔ یہ ایپ یکم جنوری کو عام ہوئی تھی۔
دوسری طرف ٹھاکر کو سیلی ڈیلز ایپ بنانے کے الزام میں 9 جنوری کو اندور میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جولائی 2021 میں کئیمسلم خواتین کی تصاویر ٹیکسٹ کے ساتھ ایپ پر اپ لوڈ کی گئی تھیں ۔ اس کا عنوان تھا- ڈیل آف دی ڈے۔
تاہم سوشل میڈیا پر ان دونوں کی ضمانت پر بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کا جرم کوئی چھوٹا نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں ضمانت مل گئی۔ اس کے مقابلے میں ان سے کئی گنا کم جرائم کرنے والوں کو ضمانت نہیں ملتی۔
کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ کیا ان پر یو اے پی اے ایکٹ لاگو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ عدالت کے ضمانتی حکم پر خواتین زیادہ آواز اٹھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں نے خواتین کو نشانہ بنایا۔ بھول جائیں کہ صرف مسلم خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک بہت سنگین جرم ہے، جسے بہت ہلکے سے لیا جاتا ہے۔ تاہم کچھ لوگ ملزمان کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے انہیں سدھرنے کا موقع دے کر کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے کوئی اور ہو، جس نے انہیں اس قسم کی حرکت کرنے پر مجبور کیا ہو۔ ایسی صورت میں یہ لوگ بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔










