لکھنؤ :(ایجنسی)
ایم ایل سی انتخاب میں دیوریا-کشی نگر سیٹ سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر کفیل خان کے قافلے کو یوپی پولیس نے آج اس وقت روک لیا جب وہ انتخابی مہم کے لیے جا رہے تھے۔ حالانکہ کالے دھن کو پکڑنے کے لیے ان کے قافلے پر چھاپہ مارا گیا تھا لیکن جب پولیس نے گاڑیوں سمیت اس میں بیٹھے لوگوں کی تلاشی لی تو وہاں سے صرف دو سو روپے ہی برآمد ہو سکے۔
یوگی کی پولیس کی اس کارروائی سے کفیل کا دل بھر آیا۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے اپنے قافلے پر پولیس کی کارروائی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں چندہ مانگ کر الیکشن لڑ رہا ہوں اور یہ الزامات لگاتے ہیں کہ میری گاڑی میں پیسوں کی بوری ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ڈاکٹر کفیل خان نے اپنی ایک ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی کی نئی شروعات کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نوکری سے نکال دیا گیا ہے، کچھ مدد چاہیے۔ کفیل خان نے کچھ نمبر بھی بتائے جن پر رقم بھیج کر ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔ کفیل خان نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ آپ سب کے ساتھ مزید دعاؤں کی ضرورت ہے۔
کفیل خان کا نام 2017 میں گورکھپور میڈیکل کالج میں بچوں کی موت کے معاملے میں سامنے آیا تھا۔ ان کومعطل کر دیا گیا تھا۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد حکومت نے انہیں برطرف کردیا تھا۔ فی الحال وہ سیاست میں داخل ہو چکے ہیں اور اکھلیش کے جھنڈے تلے قانون ساز کونسل میں پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید یوگی حکومت کو یہ بات پسند نہیں آرہی ہے۔
قانون ساز کونسل کے انتخابات 9 اپریل کو ہونے ہیں۔ کونسل کے 36 ارکان کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ اتر پردیش قانون ساز کونسل میں 100 نشستیں ہیں، جب کہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کی تعداد 403 ہے۔ ایک اصول کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ایک تہائی سے زیادہ ارکان قانون ساز کونسل میں نہیں ہونے چاہئیں۔ کونسل میں کم از کم 40 ارکان کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایم ایل سی کی حیثیت ایم ایل اے کے برابر ہے۔ فی الحال، یوپی کے علاوہ بہار، مہاراشٹر، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک میں بھی قانون ساز کونسلیں کم ہو رہی ہیں۔










