بنگلورو:(ایجنسی)
کرناٹک میں ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود طالبات کو امتحان میں حجاب پہننے کی اجازت دینے پر 3 اساتذہ کو معطل کر دیا گیا۔ ان اساتذہ پر برقع پوش طالبات کو امتحانی ہال میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا الزام ہے۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اساتذہ کو معطل کئے جانے کی بات سامنے آرہی ہے ۔ ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ 3 امتحان کے نگرانی کرنے والے ٹیچر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ لیکن اگر یہ تعداد 7 ہے تو اس کے پیچھے حجاب نہیں بلکہ حکومتی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔
کرناٹک کے اڈوپی کے ایک کالج سے شروع ہونے والے حجاب تنازع نے ریاست میں کافی تنازع کو جنم دیا اور پورے ملک میں سیاسی بحث کا موضوع بن گیا۔ مسلم لڑکیوں نے کلاس روم میں حجاب پہننے کی اجازت کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے جواب میں دیگر طلبہ زعفرانی رنگ کے شال پہن کر اسکول پہنچنے لگے۔
امتحان کی نگرانی کرنے والے ٹیچروں کو معطل کرنے کی مانگ دائیں بازو کے کارکنوں نے کی۔ کیونکہ وہ ان امتحانات میں حجاب سے جڑے واقعات پر توجہ دے رہے ہیں ۔ کلبرگی کے جیورگی میں ایک ایگزام کنٹرولر کو اس الزام پر ڈیوٹی سے ہٹادیا گیا کہ اس نے حجاب پہنے ایک طالبہ کو امتحان ہال میں داخل ہونے کی اجازت دی۔
واضح رہے کہ حجاب کے معاملے کو لے کر کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔ معاملے کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلام میں حجاب ضروری نہیں ہے اور کہا کہ اسکول اور کالج کو ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا حق ہے، اس لیے اس پر عمل کیا جانا چاہیے۔
ساتھ ہی ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود مسلم لڑکیاں حجاب پہننے کی ضد پر اٹل ہیں۔ ریاست میں پیر سے شروع ہونے والے 10ویں جماعت کے امتحانات کے دوران کئی طالبات حجاب پہن کر پہنچیں، جنہیں امتحان گاہ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور اس سے مشتعل ہو کر 100 سے زائد طالبات امتحان چھوڑ کر چلی گئیں۔ اسی دوران کئی لڑکیوں نے حجاب اتار کر امتحان دیا۔










