نئی دہلی:(ایجنسی)
اینٹی ٹیرر ٹریبونل نے معروف داعی ومبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائک کی این جی او اسلامک ریسرچ فائونڈیشن (آئی آر ایف) کو ملک مخالف قرار دینے والے مرکز کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ ٹریبونل نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ذریعہ دی گئی دلیل سے متفق ہے۔
مرکز کے فیصلے کی تصدیق کےلیے ذاکر نائیک اور اسلامک ریسرچ فائونڈیشن سے جواب طلب کیاگیا تھا، اس پر اسلامک ریسرچ فائونڈیشن نے کہاکہ فائونڈیشن کو مرکز کی جانب سے ملک مخالف قرار دینے کی کارروائی نامناسب ہے۔ آئی آر ایف نے ٹریبونل کو اپنے جواب میں کہا ہے کہ حکومت کے پاس ایک بھی ثبوت نہیں ہے کہ فائونڈیشن ماضی میں کسی بھی غیر قانونی اور ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل رہا ہے۔ فائونڈیشن ایک رجسٹرڈ چیریٹبل ٹرسٹ ہے اس کا مقصد عوام کی ترقی، ضرورتمندوں کی مدد، تعلیمی اداروں، اسپتالوں کا قیام ہے۔
ادھر ٹریبونل کے حکم میں کہاگیا ہے کہ ثبوتوں سے ثابت ہوا ہے کہ آئی آر ایف ایسی سرگرمیوں میں شامل ہے جو ملک کی سیکورٹی کےلیے خطرہ ہے۔ اس سے ملک کے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیکولرازم متاثر ہوسکتا ہے، اس لیے ٹریبونل 15نومبر2021کی نوٹیفیکیشن کی تصدیق کرتا ہے جس میں حکومت ہند نے یو اے پی اے کے تحت آئی آر ایف پر لگائی گئی پابندیوں کو پانچ سال تک کے لیے بڑھا دی تھی۔










