لکھنؤ :(ایجنسی)
یوپی بورڈ کے 12ویں کلاس کے انگریزی کے پیپر لیک ہونے کے معاملے میں یوپی حکومت کی تذلیل ہورہی تھی کہ بلیا میں پیپر لیک ہونے کے معاملے پر خبر شائع کرنے کے معاملے میں انتظامیہ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ یوپی پولیس نے امر اجالا کے صحافیوں دگ وجے سنگھ اور اجیت کمار اوجھا کو بلیا سے گرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاری کے حوالے سے یہ الزام لگ رہا ہے کہ پیپر لیک کیس میں مجرموں کے بجائے وہسل بلورز یعنی صحافیوں کی گرفتاری شروع ہو گئی ہے۔
گرفتاری کو لے کر صحافی کے رویے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ونود کاپڑی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’جیل جانے سے پہلے کسی صحافی کی کبھی اتنی ریڑ اور ہمت دیکھی ہے ؟‘
انہوں نے ٹویٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ‘یہ امر اجالا کے بلیا صحافی دگ وجے سنگھ ہیں۔ ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اخبار میں پیپر لیک ہونے کی خبر کا انکشاف کیا تھا۔ پولیس نے ان کے دو ساتھیوں اجیت اوجھا، منوج گپتا کو بھی جیل بھیج دیا ہے۔
یہ معاملہ یوپی بورڈ کے 12ویں کلاس کے انگریزی کے پیپرلیک ہونے سے متعلق ہے جس میں کارروائی کی گئی ہے۔ پیپر لیک ہونے کے باعث 24 اضلاع میں انگریزی کا پرچہ منسوخ کر دیا گیا۔ امتحان 30 مارچ کو ہونا تھا۔ 24 اضلاع- بلیا، ایٹہ، باغپت، بدایوں، سیتا پور، کانپور دیہات، للت پور، چتر کوٹ، پرتاپ گڑھ، گونڈا، اعظم گڑھ، آگرہ، وارانسی، مین پوری، متھرا، علی گڑھ، غازی آباد، شاملی، شاہجہاں پور، اناؤ، جالون، مہوبہ اور گورکھپور کے لیے انگریزی کے پرچے کا انٹرمیڈیٹ امتحان منسوخ کر دیا گیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں اب تک دو صحافیوں سمیت 22 ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔
ان صحافیوں کی گرفتاری پر پولیس انتظامیہ پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بلیا کوتوالی میں صحافیوں نے بھی اس کارروائی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا اور اسے جمہوریت کے چوتھے ستون پر حملہ قرار دیا۔ اس معاملے میں اجیت اوجھا کا بیان بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا ہے۔
صحافی دگ وجے سنگھ نے جیل بھیجے جانے سے پہلے سخت رویہ دکھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے معاملے کو بے نقاب کرکے اپنا کام کیا ہے اور اس کے برعکس انتظامیہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے اس رویے کی تعریف کی گئی۔ ایک صحافی سوربھ شکلا نے لکھا، ’سر منگل پانڈے کی جائے پیدائش ہے..ایسے ہی نہیں اسے باغی بلیا کہاجاتا ہے ۔‘
اس ویڈیو میں صحافی دگ وج سنگھ نے انتظامیہ پر کئی الزامات لگائے اور کہا کہ انتظامیہ نقل کرنے والے گروہ کے خلاف کارروائی نہ کرکے ان کو گرفتار کر رہی ہے۔
جیل جانے سے پہلے دگ وجے سنگھ نے کہا کہ کس طرح سے انہیں ذرائع سے خبر ملی کہ سنسکرت ودیالیہ کا پیپر آؤٹ ہو چکاہے اور انہو ںنے پیپر کی کاپی اپنے اخبار میں شائع کی۔ انہوں نے کہاکہ اس کےبعد انگریزی مضمون کا پیپر ملااور اسے بھی امر اجالا نے نمایاں طور سے شائع کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’خبر شائع ہونے کے بعد انتظامیہ اب ایجوکیشن مافیا کو پکڑنے کی بجائے ان سے ہی پوچھ رہی ہے کہ پیپر کہاں سے آؤٹ ہوئے۔‘
اس ویڈیو کے جواب میں بلیا پولیس نے کہا ہے کہ ‘مذکورہ شخص (دگ وجے سنگھ) کو اب تک کی تحقیقات میں حاصل ہونے والے ثبوتوں کی بنیاد پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے، اس کے ایک ساتھی کو جس کا نام وہ بتا رہے ہیں۔ وہ ایک اسسٹنٹ ٹیچر ہے اور موجودہ سیکنڈری امتحان میں ایک امتحان میں کمرہ انسپکٹر کے طور پر کام کر چکا ہے۔










