نئی دہلی :(ایجنسی)
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے نئی دہلی میں سی بی آئی کے ایک پروگرام کے دوران کہا کہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے کاموں اور غیرفعالیت کی وجہ سے اس کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مرکزی ایجنسی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ وقت کی اہم ضرورت سماجی جواز اور عوامی اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنا ہے اور اس کے لیے پہلا قدم سیاسی اور ایگزیکٹیو سے تعلقات توڑنا ہے۔ این وی رمن نے کہا کہ لوگ مایوسی کے وقت پولیس کے پاس جانے سے کتراتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدعنوانی، پولیس کی زیادتیوں، غیر جانبداری کے فقدان اور سیاسی طبقے سے قریبی تعلقات کی وجہ سے اس کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد اکثر پولیس افسران نے ہراساں کیے جانے کی شکایت کی ہے۔
’جمہوریت: تفتیشی ایجنسیوں کا کردار اور ذمہ داریاں‘ پر تقریر کرتے ہوئے، این وی رمن نے بتایا کہ کس طرح ہندوستان میں پولیس کا نظام برطانوی دور سے تیار ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، سی بی آئی گہری عوامی جانچ کے تحت آتی گئی۔
این وی رمن نے کہاکہ پولیس کو پولیٹکل ایگزیکٹیو سے تعلقات توڑ کر سماجی جواز اور عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہیے اور اخلاقیات اور سالمیت کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ تمام اداروں کے لیے درست ہے۔
اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی کمی، نچلی سطح پر غیر انسانی حالات، جدید آلات کی کمی، ثبوت حاصل کرنے کے مشکوک طریقے، افسران کی رول بک پر عمل کرنے میں ناکامی اور افسران کی جوابدہی کی کمی۔ ایسے مسائل ہیں جو پولیس کے نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔










