نئی دہلی :(ایجنسی)
کیاہرمرض کی دوا سپریم کورٹ ہو سکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں ہے اور چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے بھی جمعرات کو اس کی وضاحت کی ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بات غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے مطالبے کے جواب میں کہی۔ سی جے آئی نے سیاسی طور پر حساس معاملات پر فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ پر ذمہ داری کے بوجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے مسائل کا فیصلہ منتخب حکومت کو کرنا چاہیے۔
سی جے آئی ایک ایسے معاملے میں بات کر رہے تھے جس میں وکیل اشونی اپادھیائے نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا اور حکومت کو ایک سال کے اندر اندر تمام غیر قانونی مہاجرین کی شناخت کرنے، انہیں حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی ہدایت کی درخواست کی تھی۔
اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے،سی جے آئی نے پوچھا، ’اگر آپ کے اٹھائے تمام مسائل سے پر غور کر نے کے لئے اور جو حکم پاس کئے جانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے اس سے میں اتفاق رکھتا ہوں، تو سیاسی نمائندوں کس مقصد کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں ؟ … لوک سبھا … راجیہ سبھا ؟ سی جے آئی نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیاعدالت کواب بل بھی پاس کرنے ہوں گے ۔
بتا دیں کہ اشونی اپادھیائے نے کئی مسائل پر سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی ہیں۔ ان میں شامل ہیں- تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے یکساں طلاق کوڈ کی مانگ کرنا؛ گود لینے اور سرپرستی کے مساوی قوانین کا نفاذ، لاء کمیشن آف انڈیا کو قانونی حیثیت دینا، دو بچوں کے اصول کا نفاذ، اور ان ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دینا جہاں 2011 کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد دوسروں سے ہم ہوگئی ہے ۔
’دی انڈین ایکسپریس ‘کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے 31 جنوری 2018 کو ہدایت دی تھی کہ غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق اشونی اپادھیائے کی درخواست کو ستمبر 2017 میں دو روہنگیا پناہ گزینوں کی طرف سے دائر کی گئی ایک اور عرضی کے ساتھ ملایا جائے۔ اس نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ اس کی ایک کاپی مرکزی حکومت کے وکیل کو دی جائے۔
دونوں روہنگیا پناہ گزینوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جب وزارت داخلہ کی طرف سے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے چیف سکریٹریز کو جاری کردہ ایک خط میںانہیں فوری قدم اٹھانےاورملک بدری کے عمل کو شروع کرنے کے لئے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کوحساس بنانے کی صلاح دی گئی تھی ۔
دریں اثنا، 26 مارچ 2021 کو اپادھیائے کی درخواست پر مرکز اور ریاستوں کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔ چونکہ ان کی درخواست سماعت کے لیے درج نہیں تھی، اپادھیائے نے جمعرات کو سی جے آئی کے سامنے اس کا تذکرہ کیا جب فوری سماعت کے معاملات سی جے آئی کے نوٹس میں لائے گئے۔
فوری سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ کروڑ غیر قانونی تارکین وطن ہمارا ذریعہ معاش کا حق چھین رہے ہیں۔
اس پر سی جے آئی نے کہا، ‘مسٹر اپادھیائے، مجھے روزانہ صرف آپ کا کیس سننا پڑتا ہے۔ بہت سارے مسائل، ممبر پارلیمنٹ کے مسائل، نامزدگی کا مسئلہ، انتخابی اصلاحات وغیرہ۔ یہ تمام سیاسی معاملات حکومت سے مددمانگنے کے بجائے عدالت میں پیش کیے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عدالت پر حساس سیاسی معاملات کا بوجھ ہے جسے حکومت کو حل کرنا چاہیے۔










