اردو
हिन्दी
اگست 24, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تبدیلی مذہب اور قوانین

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تبدیلی مذہب اور قوانین
53
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

گزشتہ چند مہینوں میں تین صوبوں مدھیہ پردیش، اترپردیش اور پھر گجرات کی اسمبلی نے تبدیلی مذہب کو لے کر نئے قوانین پاس کئے ہیں۔ تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے قانون سازی کرکے نیز قانون میں سزا کی تجویزات پاس کرکے تبدیلی مذہب کے ساتھ ساتھ تبلیغ مذہب پر بھی سخت پابندی  عائد کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں، ان قوانین کا ایک خاص مقصد لو جہاد کی سیاست کو بھی ہوا دینا محسوس ہوتا ہے، گزشتہ برسوں میں پورے ملک میں فرقہ وارانہ ذہنیت کو مزید زہرآلود کرنے کے لئے لو جہاد پر خاص شور و غوغا ہوا، کیرلا سے لے کر اترپردیش تک تقریبا ہر کورٹ میں لو جہاد کے نام پر مقدمات قائم ہوئے اور میڈیا نے بھی نفرت آمیز صحافت کے تمام حدود پار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، قانون سازی سے لے میڈیا کی ہنگامہ آرائیاں کہیں نا کہیں اقلیتوں کو نشانہ بنارہی ہیں، اقلیتی طبقہ سماج میں اپنی مخصوص شناخت کی بنیاد پر خوف و ہراس کا شکار ہے۔ قانون میں موجود تجویزات یا دفعات کا صحیح یا غلط ہونا یقینا ایک اہم بحث ہے لیکن کسی خاص طبقے کو نشانہ بناکر ڈر اور خوف کے ماحول میں فرقہ وارانہ ذہنیت کو ہوا دینا یقینا ناپاک سیاسی کھیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں قانون کے غلط استعمال کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے بنائے جانے والے قوانین کی تاریخ تقریبا ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے، یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس پورے سفر میں تمام سیاسی پارٹیاں کندھے سے کندھا ملا کر ایک ہی سمت میں چلی ہیں۔ انیسویں صدی سے تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، ہمارے ملک میں تبدیلی مذہب سے مجروح ہونے والے گروہ میں سب سے پہلا نام ممبئی کے پارسیوں کا آتا ہے جنہوں نے بامبے سرکار کو تبدیلی مذہب پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے پٹیشن پیش کی تھی، جنہوں نے مشنریوں کے بڑھتے اثرات اور ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے خلاف پیش قدمی کی تھی۔ برطانیہ حکومت کے سامنے بار بار تبدیلی مذہب پر پابندی عائد کرنے کے لئے قانون سازی کی تجویز رکھی گئی لیکن برطانیہ حکومت نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کی دہائی میں متفرق راجواڑوں یا ریاستوں نے تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے قوانین بنائے جن کا مقصد برطانوی مشنریوں سے ہندومذہب اور اس کی شناخت کو محفوظ رکھنا بتایا گیا تھا۔ ان قوانین میں “رائے گڑھ اسٹیٹ کنورزن ایکٹ ۱۹۳۶”،  “دی سرگوجا اسٹیٹ اپوسٹیسی ایکٹ ۱۹۴۲”،  “اودیپور اسٹیٹ اینٹی کنورزن ایکٹ ۱۹۴۶” کچھ خاص قوانین تھے جو آزادی حاصل ہونے سے پہلے ہی الگ الگ ریاستوں کے ذریعے بنائے گئے تھے، ان ریاستوں کے علاوہ کوٹا، بیکانیز، جودھپور، پٹنہ، کالاہنڈی کے ہندو راجاوں نے بھی اپنی اپنی ریاستوں میں عیسائی مشنریوں کے ذریعے تبدیلی مذہب پر پابندی عائد کرنے نیز ہندو مذہب کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے قوانین بنائے تھے۔

ملک کے آزاد ہونے کے بعد ملک گیر سطح پر پارلیمنٹ کے ذریعے قومی قانون بناکر تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے کوششیں پھر سے شروع ہوگئی تھیں، ۱۹۵۴ میں عیسائی مشنریوں کے لائسنس اور تبدیلی مذہب کے سرکاری رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کے لئے “انڈین کنورزن (ریگولیشن اینڈ رجسٹریشن) بل” پیش کیا گیا لیکن یہ بل پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہوسکا کیونکہ لوک سبھا نے اس قانون کو پاس کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ۱۹۶۰ میں غیر ملکی مذاہب جن میں اسلام، عیسائیت، یہودیت اور پارسی مذہب میں ہندووں کے تبدیلی مذہب کی تفتیش کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں” بیک ورڈ کمیونٹیز (ریلیجئس پروٹیکشن) بل ۱۹۶۰” کو پیش کیا گیا۔ ۱۹۷۹ مورارجی ڈیسائی کے دور حکومت میں بین المذاہب تبدیلی مذہب پر سرکاری روک تھام کے لئے “فریڈم آف ریلیجن بل” پیش کیا گیا جس کے بعد پورے ملک میں احتجاجات اور مظاہروں کا ایک طویل دور چلا، ان مظاہروں میں سب سے اہم مظاہرہ ۲۹ مارچ ۱۹۷۹ کو ہوا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ ۲۰۱۵ میں موجودہ این ڈی اے حکومت نے قومی سطح پر ایک نیشنل قانون بناکر تبدیلی مذہب پر شرائط و پابندیاں عائد کرنے کی کوششیں کیں تاہم مرکزی وزارت قانون کے مطابق مذہب صوبائی حکومت کا اختیار ہے کیونکہ لاٗ اینڈ آرڈر سے متعلق قوانین و ضوابط صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، چنانچہ مرکزی حکومت نے قانون بنانے سے احتراز کیا۔

تبدیلی مذہب کو لے کر اگرچہ پارلیمنٹ ہاوس سے کوئی قانون پاس نہیں ہوسکا تاہم آزادی کے بعد ہمارے ملک کی صوبائی حکومتوں نے وقتا فوقتا تبدیلی مذہب سے متعلق صوبائی اسمبلیوں میں قانون پاس کئے، صوبائی حکومت کے ذریعے بنائے گئے قوانین میں سب سے پہلے اڑیسہ سرکار نے ۱۹۶۷ میں قانون پاس کیا جس کے بعد مدھیہ پردیش حکومت نے ۱۹۶۸ نے تبدیلی مذہب پر پابندی و شرائط عائد کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے ذریعے قانون پاس کیا۔

۱۹۷۷ میں مدھیہ پردیش کے ایک عیسائی پادری ریو اسٹینلیس نے مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت کے ذریعے بنائے گئے تبدیلی مذہب کے قانون کے خلاف پٹیشن پر سیپریم کورٹ آٖف انڈیا نے اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ “دستور ہند کے آرٹیکل ۲۵ میں مذہب کی آزادی کا حق تمام مذاہب کے لئے دستیاب کیا گیا ہے، جو آزادی کسی ایک مذہب یا اس کے ماننے والے کے لئے ہے وہی آزادی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی حاصل ہے، چنانچہ کسی کو اس کے مذہب سے دوسرے مذہب میں تبدیل کرنے کو مذہب کی آزادی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ عدالت عالیہ نے تبدیلی مذہب کو بنیادی آزادی ماننے سے انکار کرتے ہوئے مذہب کو صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار بتاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اگر چاہے تو مذہبی معاملات کے سلسلے میں اصول و ضوابط طے کرنے کے لئے قانون سازی کرسکتی ہے۔

  چنانچہ سپریم کورٹ کے “ریو اسٹینلیس بنام اسٹیٹ آف مدھیہ پردیش” کے مقدمے کے فیصلے کے بعد دیگر کئی صوبوں میں بھی تبدیلی مذہب کو لے کر قانون بنائے گئے جن میں اڑوناچل پردیش کی حکومت نے ۱۹۷۸، چھتیس گڑھ نے ۲۰۰۰ میں، تمل ناڈو نے ۲۰۰۲ اور پھر گجرات سرکار نے ۲۰۰۳ میں ، ہماچل پردیش نے ۲۰۰۶  میں، جھارکھنڈ نے ۲۰۱۷  اور اتراکھنڈ حکومت نے ۲۰۱۸ میں تبدیلی مذہب پر قدغن لگانے کے لئے مخصوص شرائط و ضوابط پر منحصر قوانین بنائے۔  ۲۰۱۹ میں ہماچل پردیش اور پھر اتراکھنڈ نے تبدیلی مذہب کو لے کر قوانین بنائے جن کے مطابق اگر کوئی شادی کی غرض سے مذہب تبدیل کرتا ہے یا تبدیلی مذہب کا مقصد صرف شادی کرنا ہو تو وہ شادی غیر قانونی قرار دی جائے گی۔

نومبر ۲۰۱۹ میں اترپردیش لا کمیشن نے جبری یا دھوکہ دہی کے ذریعے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے تبدیلی مذہب کو منضبط کرنے والے قانون کی ضرورت کی تاکید کی جس کے بعد پہلے تو اترپردیش حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی مذہب کو پابند شرائط کیا نیز بعد میں اسمبلی نے تبدیلی مذہب پر قانون پاس کیا۔

تمام ہی صوبائی قوانین کے مطابق لالچ، دھوکہ یا زور ذبردستی ، پیسوں کا وعدہ، یا بہکاوے کے ذریعے مذہب کو تبدیل کرانا جرم قرار دیا گیا ہے تاہم اترپردیش، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے تبدیلی مذہب قوانین کے مطابق شادی کے ذریعے یا شادی کے لئے مذہب تبدیل کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

تبدیلی مذہب سے متعلق تقریبا تمام صوبوں کے قوانین کے مطابق مذہب تبدیل کرنے والا نیز کروانے والا ضلعی انتظامیہ کو پہلے سے نوٹس پہنچائے گا، نوٹس کا سب سے سخت قانون اترپردیش میں ہے جہاں تبدیلی مذہب سے ۶۰ روز پہلے نوٹس دینی ہوگی جب کہ اتراکھنڈ میں ایک مہینے پہلے۔ الگ الگ صوبوں میں غلط طریقے سے مذہب تبدیل کرنے یا کرانے کی سزائیں متعلقہ قوانین میں متعین کی گئی ہیں، یہ سزائیں ایک سال سے لے سات سال تک کی قید کے علاوہ جرمانے کے ساتھ ہیں۔

یونائیٹیڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹر نیشنل ریلیجیئس فریڈم (USCIRF) کی رپورٹوں کے مطابق ان قوانین کے تحت مقدمات یا گرفتاریوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن ان قوانین کے ذریعے اقلیتی طبقات کے خلاف ڈر اور خوف اور تشدد کا خطرناک ماحول بنایا گیا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN